’فوجیوں‘ پر امریکی الزامات پر چین کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایف بی آئي نے پانچ مطلوب چینی فوجیوں کی فہرست جاری کی ہے

چین نے امریکہ کی جانب سے اپنے پانچ فوجیوں پر معاشی سائبر جاسوسی کے الزامات کی مذمت کی ہے۔

بیجنگ نے کہا ہے کہ وہ ’سائبر چوری میں کبھی بھی شامل نہیں رہا ہے‘ اور یہ کہ ان الزامات سے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو نقصان پہنچے گا۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شن ہوا نے کہا ہے کہ اس معاملے پر چین نے امریکی سفیر کو بیجنگ میں طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز امریکی محکمہ انصاف نے چینی فوج کے پانچ اہلکاروں کے خلاف امریکی نجی کمپنیوں کو ہیک کرنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی تھی۔

امریکی استغاثہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے پانچ کمپنیوں اور لیبر یونین کی اندرونی دستاویزات اور تجارتی راز چرائے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے واشنگٹن سے اپنی ’غلطیوں کو فوری طور پر درست ‘کرنے کے لیے کہا اور ان الزامات کو واپس لینے کے لیے کہا۔

شن ہوا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان قن گینگ نے کہا کہ ’یہ الزامات پوری طرح سے بے بنیاد ہیں اور درپردہ مقاصد کے تحت لگائے گئے ہیں۔‘

چینی فوج کے پانچ اہلکاروں کے خلاف امریکی نجی کمپنیوں کو ہیک کرنے کے الزام میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ ہیک کرنے کی مبینہ کوششیں ’اہم‘ تھیں اور ان کوششوں کے خلاف ’جارحانہ ردِعمل‘ کی ضرورت تھی۔

Image caption ماضی میں چین نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے خود ایسے حملوں کا سامنا ہے

ماضی میں بھی چین نے ایسے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اسے خود ایسے حملوں کا سامنا ہے۔

پیر کے روز واشنگٹن میں ایرک ہولڈر نے کہا کہ ’امریکی اہداف پر سائبر حملے کرنے کی کوشش میں کسی ریاستی عناصر‘ کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کا یہ پہلا موقع ہے۔

انھوں نے امریکی اہداف کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ہیک کرنے کی یہ کوششیں ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک، یو ایس سٹیل، ایلکویا انکورپوریٹڈ، الیگنی ٹیکنالوجیز، سولر ورلڈ اور ایو ایس سٹیل ورکرز یونین کے خلاف کی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ بظاہر یہ کوششیں صرف چین میں ریاستی کمپنیوں کو تجارتی فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئیں۔

امریکی ریاست پینسلوینیا کی ایک عدالت میں امریکی حکومت نے پانچ چینی افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی ہے اور یہ تمام افراد چینی فوج کے یونٹ 61398 سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایف بی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ 2006 سے لے 2014 کے دوران کی گئی ہیکنگ کی وجہ سے کمپنیوں کا خاصا نقصان ہوا اور ممکن ہے کہ ان کے علاوہ بھی بہت سی کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

ایرک ہولڈر نے کہا کہ امریکی حکومت اقتصادی جاسوسی کو تجارتی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی سخت مذمت کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ صدر اوباما کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ ہم امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جاسوسی نہیں کرتے۔

امریکی حکومت کے اس اقدام کو علامتی سمجھا جا رہا ہے کہ کیونکہ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ ان افراد کو ان الزامات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔

اسی بارے میں