شام: حلب میں بڑے پیمانے پر غذائی اجناس کی تقسیم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب کے پناہ گزینوں میں خوراک کی تقسیم کا کام آئی سی آر سی اور ہلال احمر تنظیم کے تحت کیا جا رہا ہے

شام کے صوبے حلب میں کئی ماہ بعد پہلی بار غذائی اجناس کی شکل میں امداد فراہم کی جا رہی ہے جس کے تحت حکومت اور باغیوں دونوں کے کنٹرول والے علاقوں میں تقریباً 60 ہزار افراد کو غذائی اجناس مہیا کی گئی ہیں۔

غذائی اجناس فراہم کرنے کا یہ کام ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی (آئی سی آر سی) اور سیریئن عرب ریڈ کریسنٹ یعنی شام کی ہلال احمر تنظیم کے تحت کیا جا رہا ہے۔

آئي سی آر سی کے صدر پیٹر مورر نے کہا کہ یہ کئی ماہ کے دوران شروع کی جانے والی سب سے بڑی مہم تھی۔

اس ماہ کے اوائل میں اس تنظیم نے کہا تھا کہ شام میں تین سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں حالات ’قیامت خیز‘ ہیں۔

آئی سی آر سی نے کئی مہینوں کی کوششوں اور صدر بشار الاسد کی حکومت اور باغیوں سے گفتگو کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر وہاں جانے کی اجازت حاصل کی۔

صدر مورر نے کہا کہ انھوں نے پہلے پہل جنوری میں دمشق کے حکام کے سامنے حلب کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس بات کو چار مہینے ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’حلب میں ہم لوگ بڑے پیمانے پر خوراک کی تقسیم کا کام کر رہے ہیں اور کئی مہینوں بعد یہ اتنے بڑے پیمانے پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔‘

مسٹر مورر نے بتایا کہ ’یہ سامان دونوں طرف تقسیم کیا جا رہا ہے۔‘

اس مہم کا اعلان پہلے سے نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی ابتدا منگل کے روز سے ہوئی ہے اور یہ مزید کئی دن جاری رہے گی۔

کھانے کی چیزیں تین ٹرکوں پر مشتمل ایک کارواں کے ذریعے تقسیم کی جا رہی ہیں۔ اس کارواں میں آئی سی آر سی کے حکام اور ہلال احمر کے رضاکار شامل ہیں۔

مسٹر مورر نے کہا کہ اس مہم کے تحت ان لوگوں تک خوراک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو شامی حکومت کی جانب سے شام کے دوسرے سب سے بڑے شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں ’بیرل بمباری‘ کے نتیجے میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ شام میں ریلیف پہنچانے کی مہم آئی سی آر سی کی ابھی جاری سب سے بڑی مہم ہے۔ اس کے تحت سنہ 2014 کے دوسرے نصف میں ہر مہینے دس لاکھ لوگوں تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس سے قبل انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ امداد میں کمی کے سبب لبنان میں موجود شامی پناہ گزینوں کو ضروری طبی امداد تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک شامی پناہ گزین کیمپ کے مکین اقوام متحدہ کی خوراک کی تقسیم کی مہم میں خوراک حاصل کرنے کے لیے اس طرح امڈ آئے

اسی بارے میں