شہزادہ چارلس کی گفتگو اشتعال انگیز ہے: روس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہزادہ چارلس آئندہ مہینے فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے ایک تقریب میں شرکت کریں جس میں صدر ولادی میر پوتن بھی شریک ہونگے

روس نے شہزادہ چارلس کے اس گفتگو کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا ہے جس میں مبینہ طور پر شہزادے نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے اقدامات کو نازی جرمنی کے کاررائیوں سے تشبیہ دی گئی تھی۔

برطانیہ میں روسی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ روس کے نائب سفیر ایلیگزینڈر کرامارینکو برطانوی دفترِ خارجہ کے حکام سے ملاقات کرنے والے ہیں جہاں وہ دو طرفہ معاملات پر بات کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس ملاقات میں ’شہزادہ چارلس کی طرف سے کینیڈا میں کیے گئے اس اشتعال انگیز تبصرے پر بھی بات چیت ہوگی اور سفارت خانے نے شہزادہ چارلس کی گفتگو پر کل ہی برطانوی وزارتِ خارجہ سے وضاحت طلب کی تھی۔‘

روس کے سفارتِ خانے کے ترجمان نے کہا کہ’اگر شہزادے نے واقعی یہ گفتگو کی ہے تو اس سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‘

روسی سفارت خانے کے بیان کے بعد شاہی گھرانے کی طرف سے کہا گیا کہ وہ اس مرحلے پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

شہزادہ چارلس اور پولینڈ کی ایک سابق جنگی مہاجر میرین فرگوسن کے درمیان یہ مبینہ طور پر یہ گفتگو کینیڈا میں ہالی فیکس میں ایک میوزیم کے شاہی دورے کے موقع پر ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق اس موقع پر شہزادہ چارلس اور میرین فرگوسن ہٹلر کی طرف سے مختلف ممالک پر قبضہ کرنے کی کارروائیوں پر بات کر رہے تھے کہ میرن فرگوسن کے مطابق شہزادہ چارلس نے کہا کہ’یہ ایسا ہی تھا۔۔۔ جس طرح پوتن کر رہا ہے۔‘

شہزادہ چارلس آئندہ مہینے فرانس میں دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے ایک تقریب ڈی ڈے میں شرکت کریں گے جس میں صدر ولادی میر پوتن بھی شریک ہوں گے۔

برطانیہ میں اس معاملے پر لوگ عموماً شہزادہ چارلس کی حمایت کر رہے ہیں۔

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کو کہا کہ وہ کسی کی ’ذاتی گفتگو‘ پر تبصرہ نہیں کریں گے لیکن انھوں نے کہا کہ’ہر کوئی اپنی ذاتی رائے رکھنے کا حق رکھتا ہے۔‘

تاہم امور خارجہ کے کمیٹی کے سابق چیئرمین اور لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمان نے کہا کہ’شہزادہ کو اپنی فری لانس خارجہ پالیسی چلانا ختم کرنا ہوگا۔‘

برطانیہ کی انڈیپینڈنٹ پارٹی کے رہنما نائجل فراج نے کہا کہ’شہزادے کے لیے اچھا ہوگا کہ وہ ایسی چیزوں میں نہ پڑیں۔‘

اسی بارے میں