حلب کی مرکزی جیل کا محاصرہ توڑ دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب میں حکومت اور باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں تقریباً 60 ہزار افراد کو بدھ کو امداد موصول ہوئی

اطلاعات کے مطابق شام کے شمالی شہر حلب میں سرکاری فوج نے باغیوں کی طرف سے ایک سال سے جاری ایک جیل کے محاصرے کو توڑ دیا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج جیل کی عمارت میں داخل ہوگئی ہے۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس جیل میں ہزاروں افراد قید ہیں اور جیل کئی مہینوں سے میدان جنگ رہی ہے کیونکہ باغی اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔

سیریئن آبزرویٹری (ایس او ایچ آر) کے ڈائریکٹر رامی عبدالرّحمٰن نے کہا کہ ’سرکاری فوج اور حکومتی نواز جنگجو حلب کی مرکزی جیل کا محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔‘

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں ’جیل میں داخل ہو گئی ہیں۔‘

النصریٰ فرنٹ اور دیگر اسلامی شدت پسند گروپوں کے جنگجوؤں نے اپریل سنہ 2013 میں اس مرکزی جیل کا محاصرہ شروع کیا تھا۔

انھوں نے اس وقت سے جیل پر کار بموں سمیت متعدد حملے کیے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے یہ حملے جیل میں قید 3000 افراد کو رہا کرنے کی کوشش میں کیے۔

یہ علاقہ اس لیے بھی فوجی حکمت عملی کے لحاظ اہم ہے کیونکہ اس کے قریب سے باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب کے علاقوں تک رسد پہنچانے کا راستہ گزرتا ہے۔

دا سیریئن آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرّحمٰن کا کہنا ہے کہ جیل اور اس کے ملحقہ علاقوں پر سرکاری فوج کے قبضے کے بعد ترکی کی سرحد اور باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کے درمیان رسد کا راستہ بند ہوگیا ہے۔

حلب شام کا ایک بڑا شہر ہے جو مکمل طور پر باغیوں اور حکومتی علاقوں میں بٹ گیا ہے۔

حلب میں حکومت اور باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں تقریباً 60 ہزار افراد کو بدھ کو اس وقت امداد موصول ہوئی جب ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو ان علاقوں تک رسائی دے دی گئی۔

بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے صدر پیٹر میورر کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ہونے والی یہ سب سے بڑی امدادی کارروائی ہے جو آئندہ چند دنوں تک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں