تھائی لینڈ میں فوج نے حکومت سنبھال لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کے عبوری وزیر اعظم کے چیف سکیورٹی ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا

تھائی لینڈ میں فوج کے سربراہ نے فوجی بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فوج نے حکومت سنبھال لی ہے۔

ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوج نظم و ضبط بحال کرے گی اور سیاسی اصلاحات متعارف کروائے گی۔

یاد رہے کہ منگل کے روز ملک میں فوج نے اہم سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ اس موقعے پر فوج کا کہنا تھا کہ ملک کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کو بغاوت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا موقف تھا کہ ملک میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک عرصے سے جاری کشمکش اور سیاسی بحران کے بعد فوج نے مارشل لا نافذ کیا ہے۔

ملک کے عبوری وزیر اعظم کے چیف سکیورٹی ایڈوائزر کا کہنا تھا کہ فوج کے فیصلے کے بارے میں حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مارشل کے نفاذ سے نگران حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور وہ اقتدار میں رہے گی۔

مارشل لا کے اعلان میں کہا گیا کہ عوام کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنی زندگیاں معمول کے مطابق گزار سکتے ہیں۔

بنکاک سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی رہنما مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ دوسرا دن ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو مذاکرات کے لیے آرمی کلب میں رکھا گیا ہے اور بظاہر فوج انھیں اس عمل میں شریک ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔

تھائی لینڈ ایک عرصے سے سیاسی بحران کا شکار ہے۔ گذشتہ سال کے آخر میں اس وقت کی وزیراعظم ینگ لک شناواترا نے ایوانِ زیرں کو تحلیل کر دیا تھا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اقتدار ایک غیر منتخب انتظامیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ وہ ملک کا آئین ازسرنو مرتب کر سکے۔

کئی ماہ سے دارالحکومت کے متعدد علاقوں میں مظاہرے جاری ہیں۔

اس ماہ کے آغاز میں ایک عدالت نے اخیارات سے تجاوز کے الزام میں وزیراعظم شناواترا کو برطرف کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ 2006 میں ان کے بھائی کو بھی فوج نے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اسی بارے میں