لندن میں ٹیپو سلطان کی انگوٹھی کی نیلامی

تصویر کے کاپی رائٹ Christies
Image caption نیلامی میں انگوٹھی کے تعارف میں لکھا گیا تھا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک مسلمان جنگجو بادشاہ ہندو مذہب کے دیوتا کے نام والی انگوٹھی پہنتے تھے

ہندوستان میں 18ویں صدی میں سلطنت میسور کے معروف بادشاہ ٹیپو سلطان کی ایک طلائی انگوٹھی لندن میں ہونے والی نیلامی میں ایک لاکھ 45 ہزار پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہے۔

لندن کے نیلام گھر کرسٹیز میں نیلام کی جانے والی اس انگوٹھی پر ہندووں کے دیوتا رام کا نام کندہ ہے۔

بعض افراد کا کہنا ہے انگوٹھی پر رام لکھے ہونے سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ٹیپو سلطان کے دل میں ہندوؤں کے لیے ہمدری تھی۔

ہندوستان کے بادشاہ ٹیپو سلطان کا شمار بھارت میں انگریزوں کے خلاف لڑنے والے حکمرانوں میں ہوتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انگوٹھی 1799 میں ایک برطانوی فوجی کمانڈر نے ٹیپو سلطان کو لڑائی میں شکست دینے کے بعد ان کی انگلی سے اتار لی تھی۔

41.2 گرام وزن کی اس انگوٹھی کو ابتدائی اندازوں کے مقابلے میں دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا گیا ہے۔ نیلامی میں کامیاب ہونے والے خریدار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

نیلامی میں انگوٹھی کے تعارف میں لکھا گیا تھا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ ایک مسلمان جنگجو بادشاہ ہندو مذہب کے دیوتا کے نام والی انگوٹھی پہنتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں ٹیپو سلطان کا مجسمہ

بی بی سی تمل کے مانیوانن تھروملائی کا کہنا ہے کہ ٹیپو سلطان کو ترقی پسند رہنما سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے اپنے والد حیدر علی سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد میسور پر 17 سال حکومت کی اور انھیں شیرِ میسور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں بھارت کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز کے پروفیسر ایس سیتار کا کہنا تھا کہ اگر یہ انگوٹھی کسی نجی شخص کو بیچ دی گئی تو عوام اس سے محروم ہو جائیں گے۔

انھوں نے بھارتی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے تمام تر قانونی اور سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انگوٹھی واپس حاصل کرے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اگر انگوٹھی کو نیلامی سے نہیں بچایا جا سکتا تو بھارتی شہریوں سے اپیل کی جانی چاہیے کہ وہ انگوٹھی خریدنے کی کوشش کریں۔

ٹیپو سلطان یونائیٹڈ فرنٹ نامی ایک تنظیم نے بھی بھارتی حکومت سے یہی درخواست کی تھی۔

2012 میں بھی اس انگوٹھی کی نیلامی کا اعلان کیا گیا تاہم اسے روک دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں