آسٹریلوی سینیٹر بم لے کر پارلیمینٹ پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹر ہیفرنین نے ملکی پارلیمانی سکیورٹی کو مذاق قرار دیا ہے

آسٹریلیا کی لیبرل پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر حکومتی سکیورٹی میں لاپرواہی کو واضح کرنے کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں جعلی بم لے گئے۔

تفصیلات کے مطابق پیر کو آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں 71 سالہ آسٹریلوی سینیٹر بل ہیفرنین لوہے کے پائپ اور ٹیپ سے بنے ہوئے جعلی بم کو شاپر میں لیے ایک کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کے لیے پہنچ گئے اور خطاب کے دوران ملکی پارلیمانی سکیورٹی کو ایک مذاق قرار دیا۔

یاد رہے کے اس ماہ آسٹریلیا میں سکیورٹی اخراجات کو کم کرنے کے لیے پارلیمانی سکیورٹی کے قوانین میں تبدیلی ہوئی تھی۔ اس تبدیلی سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے والے ہر فرد کی تلاشی لی جاتی تھی۔ لیکن نئے قوانین کے لاگو ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس میں داخل ہونے کا اجازت نامہ رکھنے والوں کے لیے تلاشی کی شرط ہٹا دی گئی۔

سینیٹر ہیفرنین کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کلیئرنس والے افراد کی بھی تلاشی لینی چاہیے اور قانون سب کے لیے یکساں ہونے چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم بچے تھے تو ایسی چیزوں کے بارے میں جانتے تھے جن کے ذریعے درختوں کو گرایا جا سکتا تھا اور اب بھی ایسی چیزیں ہیں جن کی مدد سے عمارت جیسے اونچے درختوں کو بھی گرایا جا سکتا ہے اور ان چیزوں کو یہاں اندر بھی لایا جا سکتا ہے کیوں کہ کوئی سیکورٹی نہیں ہے‘۔

آسٹریلیوی پولیس کے سربراہ ٹونی نیگس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ موجودہ سکیورٹی قوانین میں خطرہ موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر ہیفرنین نے انھیں جعلی بم لے جانے سے قبل اس بات کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ ان کی یہ حرکت سکیورٹی قوانین میں موجود کمزوریوں کو واضح کرنے کے لیے ہے۔ ٹونی نیگس نے کہا کہ انھوں نے جعلی بم کا پارلیمنٹ جانے سے قبل معائنہ کیا تھا اور یہ نقصان دہ نہیں تھا۔

اسی بارے میں