یورپی پارلیمان کے انتخابات میں’یورپ مخالف زلزلہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپ مخالفین پارٹیوں کو یورپی پارلیمنٹ انتخابات میں مقبولیت حاصل

یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں انتہائی دائیں خیالات رکھنے والی اور یورپ مخالفین جماعتوں نے کافی مقبولیت حاصل کی ہے اور اس پیش قدمی کو فرانسیسی وزیر اعظم نے ایک ’سیاسی زلزلے‘ سے تعبیر کیا ہے۔

فرانس کی نیشنل فرنٹ پارٹی اور برطانیہ کی یو کے انڈیپنڈنس پارٹی دونوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ جب کہ پارلیمنٹ کے تین بڑے معتدل بلاکوں نے کم و بیش تمام نشستیں کھو دی ہیں اگرچہ انھیں ابھی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔

انتخابات کے نتائج کا مطلب یورپی یونین کے اختیارات میں کمی یا انھیں مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے عارضی اعداد و شمار کے مطابق 1ء43 فیصد لوگوں نے ووٹ ڈالے۔ یہ پہلی بار ہے کہ پچھلے سال کے انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ اگرچہ فرق معمولی اور صرف 1ء0 فیصد کا ہے۔

اپنی پارٹی کہ فتح کے حوالے سے نیشنل فرنٹ کی میرین لے پان نے کہا کہ ’لوگوں نے اپنا فیصلہ بہت صاف اور بلند آواز میں سنایا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ اب اپنی سرحدوں سے باہر غیر منتخب ای یو کمشنروں کی حکومت میں کام نہیں کرنا چاہتے۔ وہ عالمگیریت سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں اور اپنی قسمت کے خود مالک بننا چاہتے ہیں‘۔

انتخابات کے عارضی نتائج سے ظاہر ہے کہ فرنٹ نیشنل 25 یورپی پارلیمنٹ نشتیں جیت سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 2009 میں اس پارٹی کو صرف 3 نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔

یورپی یونین کے انتخابات دنیا میں کثیر قومی جمہوریت کا سب سے بڑا اظہار ہیں۔ یہاں دیے جانے والے ووٹ 50 کروڑ شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کرے گا۔

برسلز سے بی بی سی نیوز کے میتھو پراس کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں اگرچہ یورپ مخالف اور ایسی جماعتوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے جو یورپی یونین کے اختیارات کم کرنا چاہتی ہیں لیکن اس کے باوجود پالیمنٹ میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہو سکے گا جس سے کوئی بنیادی تبدیلی آئے۔

اسی بارے میں