یورپی یونین میں اصلاحات کی ضروت ہے: فرانسیسی صدر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کے صدر اور جرمن چانسلر انگیلا میرکیل دونوں نے کہا ہے کہ اب پوری توجہ معیشت کو ترقی دینے پر مرکوز کرنی چاہیے

فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں اصلاحات کرکے اس کے اختیارات کو کم کرنا ضروری ہے۔

انھوں نے یہ بات یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں انتہائی دائیں خیالات رکھنے والی اور یورپ مخالفین جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ کے بعد کہی ہے۔

گذشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں فرنسواں اولاند کی جماعت کو دائیں بازو کی جماعت کے ہاتھوں شکت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپی یونین بہت پیچیدہ اور دور ہو گیا ہے۔

فرانس کے صدر اور جرمن چانسلر انگیلا میرکیل دونوں نے کہا ہے کہ اب پوری توجہ معیشت کو ترقی دینے پر مرکوز کرنی چاہیے۔

فرانسیسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے صدر فرنسواں اولاند نے جو یورپی یونین کے ایک بڑے علم بردار ہیں، کہا کہ یہ ’پراجیکٹ سمجھ سے بالا تر اور دور ہو گیا ہے‘ اور اسے بدلنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ’یورپ کو جہاں اس کی ضروت ہے مؤثر ہونے کے لیے سادہ اور واضح ہونا چاہیے اور وہاں سے نکل جانا چاہیے جہاں اس کی ضرورت نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یونین نے یورو زون میں ہنگامی حالات پر قابو پا لیا لیکن ’کس قیمت پر؟‘ کفایت شعاری کی وجہ سے جس سے لوگ بد دل ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ جب یورپی یونین کے رہنما منگل کو ملاقات کریں گے تو وہ اس موقع پر ’معیشت کی بہتری، روزگار کے مواقع بڑھانے اور سرمایہ کاری پر زور دیں گے۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکیل کی جماعت نے آسانی سے 35 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ انھوں نے کہا کہ یورپ کی بڑی جماعتوں کو ووٹروں کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کے لیے ’معیشت میں بہتری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ’یہ ان مایوس لوگوں کے لیے جنھوں نے ہماری خواہش کے خلاف ووٹ دیا ایک بہترین جواب ہوگا۔‘

یورپ کے تین بڑے معتدل بلاک جو یورپی یونین کے حق میں ہیں اب بھی اکثریت حاصل کرنے والے ہیں۔

لیکن انھوں نے یورپی یونین کے پارلیمان میں اپنی سیٹیں کھو دیں ہیں اور یہ سیٹیں ان جماعتوں کو ملی ہیں جو یا تو یورپی یونین کے اختیارات کو کم کرنا چاہتے ہیں اور یا اس یونین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

ان جماعتوں میں برطانیہ کی یو کے انڈیپنڈنس پارٹی شامل ہے جنھیں غیر حتمی نتائج کے مطابق مقامی انتخابات میں 27 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

اسی طرح فرانس کی نیشنل فرنٹ پارٹی نے 25 فیصد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے اور صدر فرنسواں اولاند کی سوشلسٹ جماعت کو تیسرے نمبر پر دھکیل دیا ہے۔

اسی بارے میں