مصر: کم ٹرن آؤٹ، پولنگ تیسرے دن بھی جاری رکھنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیشتر لوگ اس پر متفق ہیں کہ جیت سابق فوج کے سربراہ جنرل عبدلفتاح السیسی کی ہو گی

مصر میں صدارتی انتخابات میں کم ووٹر ٹرن آؤٹ کے پیشِ نظر پولنگ کو تیسرے دن بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا میڈل ایسٹ نیوز ایجنسی کے مطابق مصر کی نگراں حکومت نے دو دن کے ووٹنگ توسیع کرتے ہوئے تیسری دن بھی ووٹنگ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

مصر میں صدارتی انتحابات کے دوسرے دن آج یعنی منگل کو بھی کم ہی گرم جوشی محسوس ہوئی اور ہو بھی کیسے جب پہلے ہی بیشتر لوگ اس پر متفق ہیں کہ جیت سابق فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کی ہو گی۔

جنرل السیسی مارچ میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے تاکہ صدارتی انتحابات میں حصہ لے سکیں۔منتحب صدر محمد مرسی کا تحتہ الٹنے کے لیے فوج کی جانب سے ہونے والی بغاوت کے سربراہ بھی السیسی کو ماننا جاتا ہے۔

ان انتحابات میں ان کے مدِمقابل ایک ہی امیدوار ہیں، حمدان سباہائی ۔ وہ سنہ 2012 کے انتحابات میں تیسرے نمبر پر رہے تھے مگر قاہرہ شہر میں ان کے پوسٹر نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہر جگہ السیسی کی تصاویر اور پوسٹر چسپاں ہیں مگر حمدان کی تصویر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی جانب آنے والے فلائٹ میں ہی ایسے مسافروں سے ملاقات ہوئی جو جمہوری عمل سے خائف تھے۔ میری ساتھ والی سیٹ پر45 سالہ ماہم بیھٹی تھیں۔ وہ ایک بینکر ہیں اور سمجھتی ہیں کہ مصر کا مستقبل صرف ملک کی فوج ہی سدہار سکتی ہے۔

ان کا بھی قصور نہیں۔ جمال الناصر کے بعد 30 برس سے زیادہ عرصے کے لیے فوج ہی اقتدار پر براجمان رہی۔ ان کی طرح بیشتر مصر کے لوگ جمہوریت سے ڈرتے ہیں کیونکہ مصر کے لیے یہ ایک نئی روش ہے اسی لیے وہ جمہوریت سے ڈرتے ہیں۔ اور بعض کو سابق صدر محمد مرسی کا حال دیکھنے کے بعد کم ہی امید ہے کہ مصر کی سیاست فوج کے شکنجوں سے نکل سکتی ہے اس لیے وہ سازشوں کے نتیجے میں مزید بدتر معاشی حالات نہیں چاہتے۔

مصر کے اعداوشمار جمع کرنے کے سرکاری ادارے کے مطابق ملک میں خطِ غُربت کے نیجے رہنے والوں کی تعداد سنہ 2000 میں سترہ فیصد تھی جو بڑھ کر سنہ 2013 میں 26 فیصد ہو گئی ہے۔

مگر بٹے ہوئے اس معاشرے میں بیشتر ایسے بھی لوگ ہیں جو انتحابی عمل کا حصہ بن کر اسے قانونی خثیت نہیں دینا چاہتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مصر میں ووٹ ڈالنے کے اہل 53 ملین ووٹرز کا ٹرن آوٹ اب تک بہت کم ریکارڈ کیا گیا۔

نگران حکومت کی جانب سے عام تعطیل کے اعلان اور وونٹگ کے وقت میں اضافہ کرنے کے باوجود آج کم ہی ووٹر گھروں سے نکلے۔

قاہرہ کے پسماندہ علاقوں میں قائم پولینگ سٹیشنز پر پہنچی تو کم ہی ووٹر دیکھائی دیے۔ جن سے بھی بات ہوئی سب نے السیسی کو ووٹ ڈالا۔ پوچھا وجہ کیا ہے تو ایک خاتون بولی ’میرا بیٹا فوج میں ہے اس لیے اس کے بہتر تحفظ کے لیے ووٹ دیا۔‘

عبداللہ نامی ایک صاحب سے بات کی تو کہنے لگے ’انقلاب میں روٹی ، آزادی اور عدم انصاف کے لگنے والے نعروں کو عملی جامع السیسی ہی پہنا سکتے ہیں۔‘

لیکن سب سے زیادہ حیرت تب ہوئی جب میں نے ڈرائیور سے پوچا کہ اس نے کس کو ووٹ دیا ہے۔ حازم نے کہا:’میں السیسی کو ووٹ دے کر اسے قانونی حثیت نہیں دینا چاہتا اور حمدان سباہائی تو محض انتحابات کو فعال بنانے کے لیے حصہ لے رہے ہیں۔ گوکہ میں نے انھیں سنہ 2002 کے انتحابات میں ووٹ دیا تھا مگر اس وقت مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ فوج کے غیر جمہوری اقدام یعنی بغاوت کی حمایت کریں گیے۔‘

انھوں نے کہا:’میں اخوان المسلمین کی حمایت بالکل نہیں کرتا مگر منتخب صدر کو فوج اور میڈیا نے جس سازش کا نشانہ بنایا، وہ بالکل غلط ہے۔‘

ان کی سیاسی سوچ سن کر انھیں بتایا کہ میں ایک صحافی ہوں تو کیا وہ یہ باتیں مائک پر کر دیں گے، وہ راضی ہو گئے مگر مائک آن ہوتے ہی ان کا بیان بدل کیا۔ مائک پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے بھی انھیں خوف آ رہا تھا۔

مصر میں انتحابات کے خلاف اختجاج کرنے کے سلسلے میں اب تک بیشتر لوگ گرفتار ہو چکے ہیں جن میں اخوان المسلمین کے سیاسی کارکن بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جاسوسی کے الزام میں درجنوں صحافی بھی سرکار کی قید میں ہیں۔

پولینگ سٹیشنز پر جب لوگوں سے یہ پوچھنا چاہا کہ اگر انتحابات کے بعد بھی فوج نے ہی ملک چلانا ہے تو پھر تین برس پہلے والا انقلاب بے معنی نہیں، تو قاہرہ بیورو کی میری ایک ساتھی نے کہا اس طرح کے سوالات نہ ہی پوچھیں تو اچھا ہے کیونکہ آج بھی ہمارے کچھ ساتھی حکومت کے مخالف ایک گھرانے سے انٹرویو کرنے گئے تو مخبری پرفورسز نے چھاپہ مارا اور کچھ دیر پوچھ کچھ کرنے کے بعد ہی ان کی جان بخشی ہوئی۔

اب ووٹینگ کے تیسرے دن یعنی بدھ کا انتظار ہے کہ مصر کے کتنے لوگ انتحابی عمل کا حصہ بننے کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔

اسی بارے میں