یورپی رہنماؤں کا انتخابات کے نتائج کے بعد اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ کی یورپ مخالف جماعت یو کے انڈیپینڈنس پارٹی نے یورپی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے

یورپی برادری کے رہنماؤں کی ملاقات منگل کی شام کو برسلز میں ہو رہی ہے جس میں یورپ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر اور یورپی یونین میں تبدیلیاں لانے کے مطالبات پر غور کیا جائے گا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کمیرون نے یورپی یونین کے انتخابات میں یو کے انڈیپنڈنس پارٹی کی فتح کے بعد کہا ہے کہ اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔

یورپی یونین کی مخالف جماعتوں کو یورپ کے کئی ملکوں میں زیادہ سیٹیں ملنے کے باوجود یورپ نواز یا یورپی یونین کی حامی جماعتوں کو اب بھی زیادہ ووٹ پڑے ہیں۔

منگل کو ہونے والا غیر رسمی اجلاس 28 ملکوں کے رہنماؤں کے لیے پہلا موقع ہو گا کہ وہ یورپی پارلیمنٹ کے ان اہم انتخابات کے بعد آئندہ کی حکمت عملی طے کریں ۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ان انتخابات کے نتائج کو تکلیف دہ قرار دیا ہے۔

فرانس میں دائیں بازو کی انتاہ پسند جماعت نے 25 فیصد ووٹ حاصل کر کے فتح حاصل کی ہے اور فرانسوا اولاند کی جماعت تیسرے نمبر پر چلی گئی ہے۔

فرانسوا اولاند نے جو ہمیشہ یورپی یونین کے حامی رہے ہیں ایک انٹرویو میں کہا کہ یونین اب ایک سمجھ میں نہ آنے والی اور کوئی دور دراز کی شے بن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ یورپی یونین نے یورو زون کے بحران پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کی اُس نے بھاری قیمت ادا کی ہے اور بچت کے لیے کیے جانے والے اقدامات نے لوگوں کو دل برداشتہ کر دیا ہے۔

اولاند نے کہا کہ منگل کو ہونے والا اجلاس اس بات کی تصدیق کر دے گا کہ ترقی، روزگار کے مواقعوں اور سرمایہ کاری کو ترجیح دی جائے گا۔

فرانس کی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی صدر مارین لی پن نے کہا کہ ان کی جماعت کو ملنے والے مینڈیٹ سے وہ فرانس کے مفاد کا تحفظ کریں گے اور امیگریشن کے حق میں کیے جانے والے اقدامات کی مخالفت کرے گی۔

برطانوی وزیراعظم کی جماعت کو پورپی یونین میں سات سیٹوں پر ناکامی ہوئی ہے۔ اس ہار پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اب یہ واضح ہے کہ ووٹر یورپ کے بارے میں مایوسی کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں