’گوشت کی بجائے دال بنانے پر بیوی کو قتل کردیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mehr
Image caption ’میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ گوشت پکاؤ۔ اس نے کہا کہ وہ گوشت نہیں کچھ اور پکائے گی‘

امریکہ کے شہر نیو یارک میں عدالت کو بتایا گیا کہ کیسے ایک پاکستانی تارکین وطن نے اپنی بیوی کو مبینہ طور پر گوشت کی بجائے دال بنانے پر قتل کردیا۔

امریکی پیڈیا کے مطابق 75 سالہ نور حسین کو پچیس سال قید ہو سکتی ہے اگر یہ ثابت ہو گیا کہ انھوں ہی نے اپنی اہلیہ کو قتل کیا ہے۔

استغاثہ نے عدالت میں نور حسین کی اہلیہ 66 سالہ نذر حسین کی تصاویر پیش کیں جن میں ان کے چہرے اور جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔

نور حسین کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے موکل کا ارادہ اپنی اہلیہ کو ہلاک کرنے کا نہیں تھا بلکہ سبق سکھانا تھا۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ تین اپریل 2011 میں پیش آیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ نور حسین نے پہلے کہا تھا کہ ان کی بیوی کو آدھی رات کو خون کی الٹیاں آییں اور ان کو سانس لینے میں دقت پیش آ رہی تھی۔ تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ پر تشدد کیا تھا۔

مترجم کے ذریعے بات کرتے ہوئے نور حسین نے پولیس کے سامنے ویڈیو انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کو بازو اور ہونٹوں پر مارا تھا۔

انھوں نے کہا ’میں نے اس سے کہا کہ گوشت پکاؤ۔ اس نے کہا کہ وہ گوشت نہیں کچھ اور پکائے گی۔‘

نور حسین نے کہا کہ انھوں نے ڈنڈے سے اپنی اہلیہ پر تشدد کیا اور ڈنڈا باہر پھینک دیا کیونکہ تاکہ وہ دوبارہ تشدد نہ کریں۔

انھوں نے پولیس کو بتایا کہ اس کے بعد انھوں نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر عبادت بھی کی۔

نور حسین کے رشتہ داروں کے مطابق وہ تیس سال قبل امریکہ آئے تھے اور پیٹرول سٹیشن پر کام کرتے تھے۔

اسی بارے میں