انسانی اعضا کی قیمت کا تعین کیسے؟؟؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانیہ میں زخموں کی ایک سے پندرہ تک درجہ بندی کی گئی ہے جس میں شدید ترین درجے میں دونوں ہاتھ یا دنوں ٹانگوں کا کٹنا شامل ہے

برطانیہ اور امریکہ میں ان سابق فوجی اہلکاروں کو معاوضہ ادا کیا جاتا ہے جنھوں نے جنگ کے دوران اپنے اعضا گنوا دیے یا انھیں شدید زخم آئے لیکن کسی بھی عضو کی قیمت کون طے کرتا ہے؟

فوج کی ملازمت کے دوران فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے زخمی ہونے والے اہلکاروں کو طبی سہولیات، فزیکل تھراپی اور مصنوعی اعضا مہیا کیے جاتے ہیں۔

جو اہلکار فوج چھوڑ دیتا ہے تو بھی اسے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ جبکہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کو بھی معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔ شدید زخمی ہونے والے امریکی اہلکاروں کو اضافی ’ خصوصی ماہانہ معاوضہ‘ ادا کیا جاتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے پیش کی گئی ایک مثال کے مطابق (جس کی امریکی انتظامیہ کی جانب سے تصدیق نہیں ہوئی) یہ معاوضے ایک ہاتھ کے نقصان یا دونوں کانوں سے بہرہ ہونے پر 100 ڈالر سے 5000 ڈالر سے زائد کی رقم تک ہیں۔ یہ ان اہلکاروں کے لیے ہیں جنہیں بہت زیادہ مدد اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

لیکن یہ معاوضے کون متعین کرتا ہے۔ ویٹیرنز انتظامیہ میں پبلک افیئرز کے ماہر کہتے ہیں کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔گو کہ صحیح قیمت کے تعین کے لیے سنجیدہ حساب کتاب کی ضرورت ہے تاہم معاوضے کے لیے اس بات کا اندازہ لگایا جاتا ہے کہ زخمی (مرد یا عورت) اہلکار صحت مند ہونے کی صورت میں کم سے کم کتنا کما سکتا تھا۔

معاوضے کی رقم خاندان کے افراد کی تعداد کے حساب سے بڑھائی بھی جاسکتی ہے۔ تاہم زخم کی شدت کی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔

برطانیہ میں ’مسلح افواج کے معاوضے کی سکیم‘ کے تحت زخمی اہلکار کو اس کے زخم کی شدت کے اعتبار یک مشت رقم ادا کر دی جاتی ہے۔

برطانیہ میں زخموں کی ایک سے پندرہ تک درجہ بندی کی گئی ہے جس میں شدید ترین درجے میں دونوں ہاتھ یا دنوں ٹانگوں کا کٹنا شامل ہے۔

پہلا درجہ شدید ترین زخم کا ہے جس میں 570,000 پاؤنڈ ادا کیے جاتے ہیں جبکہ پندرھواں درجہ سب سے کم ہے جس میں سر، گردن، اعضا یا سینے پر چھوٹے زخم شامل ہیں، اس کا 1,200 پاؤنڈ معاوضہ مقرر ہے۔

یہ معاوضے سنہ 2010 کے سالانہ معاوضہ کی سکیم کی روشنی میں طے کیے گئے۔

زخموں کی تعداد اور مقام کے اعتبار سے جس زخم کی 1-4 تک درجہ بندی کی جاتی ہے اسے سو فیصد ادائیگی کی جاتی ہے جبکہ دو یا زیادہ زخموں کو پانچ یا چھ درجہ دیا جاتا ہے۔

ایک جیسے زیادہ زخموں کے معاوضے کو اکھٹا کر دیا جاتا ہے جن میں سے بعض کی کل قدر کی ایک شرح مقرر کر دی جاتی ہے۔

کس زخم کو کیا درجہ دیا جائے گا اس کا تعین کرنے کے لیے ایک آزادنہ طبی ماہرین کے گروپ کی سفارشات پر عمل کیا جاتا ہے۔ یہ خاص مدت کے بعد سفارشات کا از سر نو جائزہ لیتے ہیں اور معاوضوں کا دوبارہ تعین کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں