جارجیا میں سونے کی قدیم کانیں

جارجیا میں سونے کی قدیم  کانیں تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ساکدریسی، جنوب مشرقی جارجیا کے علاقے بولنیسی میں چھوٹی چھوٹی سرسبز پہاڑیوں پر مشتمل ایسا علاقہ ہے

جارجیا میں سونے کی قدیم کانوں سے سونا نکالنے کا کام رکا ہوا ہے کیونکہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کانیں وہاں موجود سونے سے بھی قیمتی ہیں۔

حکومت ایک روسی ادارے کو سونا نکالنے کا لائسنس دے چکی ہے اور اس بنا پر جارجیا کی معیشت میں 30 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی آ چکی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کانوں سے سونا نکالنے کا کام شروع ہونے کا مطلب ہے تین ہزار افراد جو کانکنی کرنے والے ادارے سے وابستہ ہیں اور اس کا مطلب ہے تین ہزار خاندان۔

دوسری طرف جرمنی کی بوخم یونیورسٹی میں آثار قدیمہ اور خاص طور سے کانوں کے ماہر پروفیسر تھامس سٹولنر ہیں جو دس سال سے بولنیسی کے علاقے، ساکدریسی میں آثار قدیمہ پر کام کر رہے ہیں۔

بظاہر تو ساکدریسی، جنوب مشرقی جارجیا کے علاقے بولنیسی میں چھوٹی چھوٹی سرسبز پہاڑیوں پر مشتمل ایسا علاقہ ہے جو بہت بڑا یا وسیع نہیں ہے لیکن ایسا ہے کہ اپنی خوبصورتی کی بنا پر مصوری کا نمونہ محسوس ہوتا ہے۔

پروفیسر سٹولنر کا کہنا ہے کہ جب اس علاقے میں دستیاب ہونے والے کانکنی کے روایتی اوزار پتھر کی ہتھوڑی کا معائنہ کیا گیا تو ہماری رائے تھی کہ یہ کان پانچ سے ساڑھے پانچ ہزار سال قدیم ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی سے ہمیں اندازہ ہوا کہ اس کا زمانہ تو تین ہزار سال قبل مسیح تک جاتا ہے۔ اس کی دریافت تو ایک ایسا عظیم واقع تھی جو اب تک رونما ہوا۔

اس بارے میں جارجیا کے وزیراعظم اراکی گاریباشویلی کہتے ہیں کہ جارجیا کی حکومت آثار قدیمہ کی اس دریافت کی خوشی میں برابر کی شریک ہے۔ اور اسے عظیم ثقافتی تاریخی سرمائے کے طور پر محفوظ کرنا چاہتی ہے اور حکومت نے ایسا کر بھی دیا تھا لیکن پھر پروفیسر سٹولنر کا دعویٰ ثابت نہیں ہو سکا اور ساکدریسی کو جو درجہ دیا گیا تھا وہ منسوخ کر دیا گیا۔

انھوں نے یونیورسٹی کے طلبا سے ایک حالیہ ملاقات میں کہا کہ اس صورت میں جب یہ دعویٰ ثابت نہیں ہوا تو کیا اس مقام کو کانکنی، ایک بڑے وسیلے اور روزگار کے ذریعے کے اعتبار سے جو اہمیت حاصل ہے اُسے فراموش کر دیا جائے۔

حکومت نے ساکدریسی کے اہم حصے میں کان کنی کے لیے آر جی ایم نامی ایک ادارے کو لائسنس دے دیا ہے۔ اور اس ادارے نے بڑی سرمایہ کاری بھی کر دی ہے۔

ادارے کے کمرشل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر مکمل کام کے نتیجے میں جارجیا سے جو سونا اور دوسری معدنیات نکالی جائیں گی ان کی مالیت جارجیا کی دس فیصد برآمدات کے مساوی ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جارجیا میں سول سو سائٹی کے لوگ پروفیسر سٹولنر کے حامی ہیں اور انھوں نے کان کے علاقے میں دھرنا دے رکھا ہے۔

یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان پہاڑیوں میں سونے کے ذخائر 14 ٹن کے برابر ہو سکتے ہیں اور اس میں سے 30 فی صد تو تقریباً ایک ہی پہاڑی کے نیچے ہے۔

تاریخ اور ماحولیات کے حامی حکومتی فیصلے کے خلاف اور پروفیسر سٹولنر کے ساتھ ہیں۔ ان میں سے کچھ علاقے میں کیمپ بھی لگائے ہوئے ہیں تا کہ ساکدریسی میں سونا نکالنے کا کام شروع نہ ہو۔

لائسنس لینے والے ادارے آر جی ایم کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والی تاخیر کے باعث اُسے پہلے ہی نقصانات کا سامنا ہے۔ مزید تاخیر کا مطلب ہے مزید نقصانات۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ماہرین کے ذریعے تحقیق کرا لی ہے اور ایک کمیشن بھی بنایا جا چکا ہے جس سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس کی بنا پر کہا جا سکے یہ کان صرف کان نہیں آثار قدیمہ بھی ہے۔

سول سوسائٹی کے لوگ چاہتے ہیں کہ حکومت غیر جانبدار عالمی ماہرین طلب کرے اور ان سے ساکدریسی کے مقدر اور حیثیت کا فیصلہ کرائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جارجیا میں سول سوسائٹی کے لوگ ایک مدت سے ساکدریسی میں خیمے لگائے پڑے ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت غیر جانبدار عالمی ماہرین سے کان کے بارے میں فیصلہ کرائے۔

اسی بارے میں