نائجیریا کا بوکو حرام کے خلاف اعلانِ جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپریل میں بوکو حرام کے مسلح ارکان نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا تھا

نائجیریا کے صدر گڈ لک جوناتھن نے حکومت کے خلاف برسرِ پیکار شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف ’مکمل جنگ‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ملک میں فوجی حکومت ختم ہونے کے 15 سال مکمل ہونے پر ’یومِ جمہیوریت‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’بین الاقوامی دہشت گردی سے نائجیریا کی ترقی کو خطرہ ہے۔‘

انھوں نے ٹی پر اپنی خطاب میں کہا کہ ’میں نے اپنی سکیورٹی فوسز کو حکم دیا ہے کہ وہ ہماری سر زمین پر دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ایک مکمل فوجی آپریشن شروع کریں۔‘

بوکو حرام نے نائجیریا میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے سنہ 2009 سے پرتشدد کارروائیاں شروع کی ہیں۔

بدھ کو بوکو حرام کے جنگجوؤں نے ملک کے شمال مشرق میں گورمیوشی گاؤں پر حملہ کیا جہاں زندہ بچ جانے والی ایک خاتون کے مطابق اس حملے میں 42 افراد ہلاک کیے گئے۔

خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے گاؤں والوں کو گولیاں اور تیز دھار آلے مار کر ہلاک کیا اور گھروں کو آگ لگا دی۔

اپریل میں بوکو حرام کے مسلح ارکان نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا تھا جو تاحال ان کے پاس مغوی ہیں۔

بوکو حرام ان لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اپنی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

صدر گڈ لک جوناتھن نے کہا کہ ’نائجیریا کے شہریوں، ہمارے پڑوسیوں اور بین الاقوامی برادری کی حمایت سے ہم اپنی دفاع کو مضبوط کریں گے، ہم اپنی لڑکیوں کو بازیاب کر لیں گے اور نائجیریا کو دہشت گردوں سے پاک کر دیں گے۔‘

گڈ لک جوناتھن نے مئی سنہ 2013 میں ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے بورنو، آداماوا اور یوبی کی ریاستوں میں زیادہ فوج تعینات کی تھی۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بوکو حرام زیادہ متحرک ہے۔

اس حکومتی اقدام کے جواب میں بوکو حرام نے شہروں کے اندر بم دھماکوں اور چھوٹے قصبوں پر حملوں کی مہم شروع کی۔

بدھ کو امریکی صدر براک اوباما نے بھی خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک اہم تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’امریکہ کا کوئی سکیورٹی آپریشن بوکو حرام کی طرف سے درپیش خطرے کو ختم نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس لیے ہمیں دونوں، ان مغوی لڑکیوں کی بازیابی اور اپنی نوجوان نسل کو تعلیم دینے کے لیے نائجیریا کی حکومت کی مدد کرنی چاہیے۔‘

امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس ان لڑکیوں کی بازیابی میں نائجیریا کی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ نائجیریا کی حکومت کے خلاف سنہ 2009 میں بوکو حرام کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں اور جوابی اقدامات میں ہزاروں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں