’اوباما اب پھنسنا نہیں چاہتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’فوجیوں کا بھیجا جانا ناگزیر تھا، لیکن ان لوگوں کی موت کا سوچ کر مجھے شدید افسوس ہوتا ہے۔‘

ان دنوں جوں جوں صدر براک اوباما اپنی خارجہ پالیسی کے ناقدین کو سنتے ہیں ان کی الجھنیں بڑھتی جاتی ہیں۔

شام؟

یوکرین؟

افغانستان؟

آخر ان کے ناقدین ان سے اور کیا چاہتے ہیں؟

کیا وہ ایک نئی جنگ شروع کر دیں؟

کیا وہ حالیہ جنگ کو چلنے دیں جو پہلے ہی امریکہ کی طویل ترین جنگ بن چکی ہے؟

صدر اوباما کے بدھ کو ویسٹ پوائنٹ کے مقام پر امریکی ملٹری اکیڈمی کے نئے پاس ہونے والے کیڈٹوں سے خطاب کا تجزیہ کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدارت میں پانچ سال گذارنے کے بعد صدر اوباما کو یقین ہوتا جا رہا ہے کہ اگرچہ امریکہ کو اپنی سرحدوں سے باہر کی دنیا میں ایک کردار ادا کرنا چاہئیے، تاہم امریکہ کو بین الاقوامی مسائل میں اتنا بھی نہیں الجھنا چاہئیے کہ وہ وہاں پھنس کے رہ جائے۔

صدر کا خیال ہے کہ ان کے پیش رو امریکی صدور کئی ممالک میں پھنسنے کی غلطی کر چکے ہیں۔ صدر اوباما کے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ امریکہ ’جنگ کے طویل سلسلے‘ سے باہر نکل آئے۔

صدر اوباما کے ناقدین، جن میں زیادہ تر کا تعلق دائیں بازو سے ہے مگر اس میں بائیں بازو کے کچھ لوگ بھی شامل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی حکمت عملی آئندہ ’ کچھ بھی نہ کرنے کا نسخہ‘ ہے۔

ان ہی ناقدین کی باتوں سے تنگ آ کر صدر اوباما نے نئے فوجیوں سے خطاب کے موقع کو استعمال کرتے ہوئے نا صرف اس تنقید کا مفصل جواب دیا بلکہ ایک ایسی خارجہ پالیسی کے خد وخال بھی بتائے جو ان کے خیال میں نئے حالات کے تقاضوں کے لیے موزوں ہوگی بلکہ ان کی صدارت کے بعد بھی جاری رہے گی۔

قومی سلامتی کے امور کے مشہور تجزیہ کار پیٹر ایل برگن کے مطابق اپنے خطاب میں صدر اوباما کی کوشش تھی کہ وہ اس خارجہ پالیسی کی وضاحت کریں جو طالبان اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد امریکہ کو اپنانی چاہئیے، یعنی اب امریکہ کو دنیا کو کس نظر سے دیکھنا چاہئیے۔ پیٹر برگن کے بقول ’ جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ دیکھ بھال کر کسی جگہ مداخلت کریں گے تو صاف ظاہر ہے آپ اس موضوع پر کوئی دھواں دھار تقریر نہیں کر سکتے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ صدر اوباما کی یہ حکمت عملی موزوں ترین حکمت عملی ہے اور سچی بات یہ ہے کہ امریکی عوام بھی اسی خیال کے حامی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر کا اصرار تھا کہ آئندہ امریکی فوجوں کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیا جائے گا

بدھ کو صدر اوباما نے اپنی حکمت عملی کو اپنے ہی الفاظ میں پرونے کی کوشش کی اور امریکی افواج کے کمانڈر انچیف کی حیثیت سے وہ ’دنیا سے الگ تھلگ ہو جانے‘ اور ’دوسرے ممالک کی پرواہ کیے بغیر اقدامات کرنے‘ کی دو پالیسیوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حسب عادت انھوں نے درمیانی راہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ انھوں نے امریکی سیاست کے دونوں دھاروں کو مطمعن کرنے کی کوشش کی اور انہی کے الفاظ بھی دھرائے۔ مثلاً انھوں نے امریکی قوم کے لیے ڈیٹو کریٹس کے پسندیدہ الفاظ ’ناگذیر قوم‘ اور ریپبلکن پارٹی کا پسندیدہ صیغہ ’امریکن ایکسپشنلزم یا امریکہ کی یہ صلاحیت کہ وہ جب ضروری سمجھتا ہے تو فوری اقدامات کرتا ہے‘ کو بھی اپنی تقریر میں جگہ دینا ضروری سمجھا۔

تاہم وہ کمانڈر انچیف جس نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران دہشتگردوں کے خلاف ڈرون حملوں کی بوچھاڑ جاری رکھی اور پھر اسامہ بن لادن کو ختم کرنے کے لیے خصوصی فوجی دستہ روانہ کیا، وہ کمانڈر ہمیں کیڈٹوں سے خطاب کے دوران ایسا صدر دکھائی دیا جس کا اصرار تھا کہ آئندہ امریکی فوجوں کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیا جائے گا۔ شاید اسی لیے ان کا کہنا تھا کہ عراق اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد امریکہ ان دونوں جنگوں سے خود کو مکمل طور پر نکال لے گا۔ اس کے علاوہ اپنے علاقائی اتحادیوں کو دہشگردی کے خلاف جنگ کی تربیت اور ضروری اسلحہ دینے کی پالیسی کے ذریعے صدر اوباما آئندہ جنگوں کی ذمہ داری اپنے اتحادیوں کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں۔

آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ صدر اوباما کا خطاب بہت ہی زیادہ بین بین تھا۔ مثلاً گذشتہ چند برسوں میں ملٹری اکیڈمی سے تربیت مکمل کرنے والے جوان فوجیوں کی افغانستان اور عراق میں ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ان فوجیوں کا اِن ممالک میں بھیجا جانا ناگزیر تھا، لیکن ان لوگوں کی موت کا سوچ کر مجھے شدید افسوس ہوتا ہے۔‘

صدر جارج بش کے سابقہ مشیر پیٹر فیور کہتے ہیں کہ ’صدر اوباما اپنے ناقدین کو قائل نہیں کر سکے اور ان کی تقریر بہت ہی دوغلی اور ان کا بولنے کا انداز بہت دفاعی تھا۔‘

بش انتظامیہ کے ایک اور افسر رچرڈ این ہاس کے بقول صدر اوباما نے اپنے خطاب میں ’ان دونوں فریقوں میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جن میں سے ایک کا کہنا ہے کہ امریکہ پہلے ہی دنیا میں بہت کچھ کر رہا ہے جبکہ دوسرا فریق کہتا ہے کہ امریکہ کا کردار بہت ہی محدود ہے، تاہم اس خطاب میں یہ بات واضح نہیں ہے کہ آخر امریکہ کو کیا کرنا چاہئیے۔‘

بش انتظامیہ کے سابق سکریٹری خارجہ نکولس برنز اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا خیال ہے کہ صدر اوباما کا خطاب بہت اچھا تھا۔ ’صدر کا خطاب مخلصانہ تھا وہ بھلے کی بات کر رہے تھے۔

’ صدر کی بات درست ہے کہ اب امریکہ کو معمول کے حالات کی طرف لوٹ کے آ جانا چاہئیے اور صدر کا یہ کہنا بالکل مناسب ہے کہ امریکہ کو آئندہ کسی ملک میں فوجیں بھیجنے سے پہلے بہت سوچ بچار کرنی چاہئیے۔‘

اسی بارے میں