یورپ آنے والے غیرقانونی تارکینِ وطن میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Marina Militare
Image caption سال 2014 میں اب تک آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد سنہ2011 میں اسی دورانیہ میں آنے والے افراد سے بہت زیادہ ہے

بی بی سی کو حاصل ہونے والے معلومات کے مطابق حالیہ مہینوں میں یورپ آنے والے تارکین ِ وطن کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔

یورپ کی سرحدی ایجنسی فرونٹیکس کا کہنا ہے کہ شمالی افریقہ سے خطرناک سمندری سفر کر کے اٹلی آنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

جنوری سے اپریل سے تک ان راستوں پر کم سے کم 42000 تارکینِ وطن کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 25650 لیبیا سے آئے تھے۔

رواں برس سات دیگر نسبتاً کم مصروف راستوں سمیت یورپ میں داخل ہونے والے کل تارکینِ وطن کی تعداد اب 60000 کے قریب ہے۔

بدھ کو اٹلی کی حکومت کا کہنا تھا کہ ملک کے ساحلوں پر پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد 39000 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

سال 2014 میں اب تک آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد سنہ2011 میں اسی دورانیے میں آنے والے افراد سے بہت زیادہ ہے۔ یہ عرب دنیا میں انقلاب کا دور تھا۔ اُس برس 140000 غیر قانونی تارکینِ وطن یورپ آئے تھے۔

فرونٹیکس کے ڈپٹی ڈائریکٹر گِل ایریز فرنینڈز کا کہنا ہے ’اگر موجودہ رجحان جاری رہا۔ تو آنے والے موسم گرما میں امکان ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ‘

حال ہی میں آنے والے تارکینِ وطن میں ایک تہائی لوگ شام سے آئے ہیں جو ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث وہاں سے نکلنے پر مجبور ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اٹلی کی شکایت ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں بحیرہ روم میں گشت بڑھانے سے اس کے یومیہ تین لاکھ یورو خرچ ہو رہے ہیں

تاہم اب بھی تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد افغانستان اور ایرٹریا سے آ رہی ہے۔ فرانس میں کالے کے مقام پر قائم دو خمیہ بستیوں کو رواں ہفتے ختم کیا گیا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یہاں رہنے والے تارکینِ وطن مغربی افریقہ سے بنگلہ دیش تک کے ممالک سے تھے۔ جبکہ ان میں بڑی تعداد میں ایرانی باشندی اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ اعداد و شمار حیران کن نہیں ہیں جبکہ سنہ 2013 کے اوائل میں تارکینِ وطن کی تعداد کم تھی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں تارکینِ وطن سے متعلق شعبے کے پروفیسر فینک ڈُوول کا ہے کہ ’لیبیا میں کشیدگی کے باعث وہاں کا مرکزی راستہ طویل عرصے تک بند رہا اس لیے صحرائے صحارا سے متصل ممالک کے لوگوں نے کم سے کم دو برس انتظار کیا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اسے لیے تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ لوگ پہلا میّسر موقع ضائع نہیں کرنا چاہتے۔‘

حال ہی میں بی بی سی کی ٹیم کو ملنے والے شواہد کے مطابق لیبیا میں غیر یقینی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کی وجہ سے اب بھی کئی لوگ ملک چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھ ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق یہ تعداد تین لاکھ کے قریب ہے۔

اٹلی کی شکایت ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں بحیئرہ روم میں گشت بڑھانے سے اس کے یومیہ تین لاکھ یورو خرچ ہو رہے ہیں۔

اسی بارے میں