آتش فشاں کے دھوئیں سے پروازیں معطل

انڈونیشیا میں ایک آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے دھوئیں کی وجہ سے فضائی کمپنیوں نے آسٹریلیا کے شہر ڈراون سے آنے جانے والی تمام پروازوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

انڈونیشیا کے آتش فشاں ماونٹ سنگینگ اپی سے جمعہ کو دھواں اٹھنا شروع ہوا تھا اور یہ دھواں جنوبی کی طرف آسٹریلیا کی طرف جانا شروع ہو گیا۔

کوانٹس، جٹ اسٹار اور ورجن آسرٹیلیا نے انڈونیشیا کے صوبے بالی اور آسٹریلیا کے درمیان تمام پروازوں کو معطل کر دیا ہے۔

سینکڑوں کی تعداد میں مسافر ہوائی اڈوں پر مشکالات کا شکار ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال اتوار تک جوں کی توں رہے گی۔

ڈارون ولکینک ایڈوائزری سینٹر کے مینیجر ایملی جانسن نے روئٹرز خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ گذشتہ دس گھنٹوں سے آتش فشاں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں یہ آتش فشاں کیا کرنے والا ہے۔

سنیچر کو بالی اور آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے درمیان بھی کئی پروازوں کو منسوخ کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈونیشیا میں 130 آتش فشاں ہیں

آتش فشاں سے اٹھنے والے راکھ کے بادل ہوائی جہازوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس دھوئیں میں چھوٹے چھوٹے ذرات جہاز کے انجنوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یہ دھواں اب ہوا کے دوش پر جنوبی کی طرف پھیل رہا ہے۔

آسٹریلیا کے نائب وزیر اعظم وارن ٹرس کا کہنا ہے کہ فضائی سروسز کو معمول پر آنے میں اب کئی دن لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہوا اور موسمی حالات پر اس بات کا انحصار ہے کہ برسبن سمیت دوسرے شہروں کے لیے بھی پروازوں کو معطل کرنا پڑتا ہے کہ نہیں۔

سنگینگ اپی کا جزیرہ سنہ 1988 کے بعد سے اب تک مکمل طور پر غیر آباد ہے۔ سنہ 1988 میں یہاں آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد اسے خالی کرا لیا گیا تھا۔

انڈونیشیا کے جزائیر ایک ایسے علاقے میں واقع ہیں جہاں زلزلے کا ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔

انڈونیشیا میں 130 کے قریب ایسے آتش فشاں ہیں جو زندہ ہیں اور کسی بھی وقت زلزلے کا سبب بن سکتے ہیں۔

اس سال فروری میں جاوا کے جزیرے سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو ایک آتش فشاں کے پھٹنے سے نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔

اسی بارے میں