معذور بھی اور خوش بھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock

کیا آپ کو کبھی خیال آیا ہے کہ ’معذور ہونے سے بہتر ہے کہ میں مر ہی جاوں؟‘ یہ ایک عجیب سوچ نہیں ہے۔ عام طور پر معذوری کو ناکامی اور بیکاری کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ ہم معذور افراد کے بارے میں اکثر افسوس کرتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی زندگی غمزدہ ہو گی۔

لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے اور اس بات کو ’معذوری کا تضاد‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جائزوں کے مطابق معذور لوگ مسلسل یہی بتاتے ہیں کہ وہ ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں اور اکثر عام لوگوں سے زیادہ خوش ہیں۔

جسمانی خرابی اکثر زندگی کے معیار پر بہت کم اثر انداز ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، ریسرچ کے مطابق جو لوگ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ سے متاثر ہیں ان کی خوشی ان کی جسمانی صلاحیت سے منسلک نہیں ہے۔ انسان کی خوشی کمزور نظر، چلنے کی قوت یا دوسرے لوگوں پر انحصار کرنے سے منسلک نہیں ہوتی۔

اگر آپ ایک لمحے کے لیے اس کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ معذور لوگوں کے پاس موازنہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ جس کی نظر یا سماعت نہیں ہے اس نے کبھی موسیقی نہیں سنی یا قدرتی مناظر نہیں دیکھے۔ جب زندگی کبھی مشکل بھی ہو تو ہمیں اس میں جینے کی عادت ہو جاتی ہے۔

جو لوگ معذور ہو جاتے ہیں وہ اکثر بعد میں ایک جیسے ہی تجربے سے گزرتے ہیں اور یہ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ میں 2008 میں مفلوج ہوا تھا اور میں نے سیکھا کہ چوٹ یا بیماری کے فوراً بعد انسان غم کا شکار ہو سکتا ہے اور یہاں تک کہ خودکشی کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ وہ اپنی صورت حال اور اپنے رویے کا پھر سے جائزہ لیتے ہیں اور کبھی کبھی پہلے سے بھی زیادہ کامیابیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو وہ حیرت انگیز اولمپک کھلاڑی یاد ہوں گے جوکسی نہ کسی جسمانی کمی کا شکار تھے ۔۔۔

حیاتیات اور اخلاقیات کے ماہرین کبھی کبھی دوسرے الفاظ میں ان لوگوں کو ’خوشی کا غلام‘ کہتے ہیں جن کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ وہ اس لیے خوش ہیں کیونکہ وہ کچھ اور نہیں جانتے۔ شاید معذور لوگ خود کو یا دوسروں کو دھوکا دے رہے ہیں۔ بہرحال ان لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود سے جھوٹ بول رہے ہیں۔

لیکن ایسی وضاحتیں لوگوں کو نیچا دکھاتی ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سب غلط ہیں۔تحقیق کے مطابق حادثے یا صدمے کے بعد اکثر لوگ اور ان کی زندگی کا معیار تقریباً وہی ہوجاتا ہے جو پہلے تھا۔

اگر معذور لوگوں کی خود کے بارے میں رائے درست ہے تو ہمیں ’معذوری کے تضاد‘ کو بہتر انداذ میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سب سے پہلے تو معذور شخص کے ذہن میں ہونے والے نفسیاتی عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔ انسان اپنےحالات کے مطابق بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسے چھوٹی چیزوں میں تسلی اور خاندان اور دوستوں کے ساتھ تعلقات سے خوشی۔

شاید معذور لوگوں کے بارے میں ہمارے خیالات بھی خوف، کم معلومات یا تعصب پر مبنی ہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ مشکلات کی وجہ سے لوگ ناخوش ہوتے ہیں۔

زندگی کے کئی پہلوؤں کی طرح کچھ بنیادی عوامل ہیں جن سے حقیقی فرق پڑتا ہے۔ بد قسمتی سے مختلف معاملات میں معذور افراد کی صورت حال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ایک فلاحی ادارے کے مطابق حکومت کے اخراجات میں کمی کے سبب معذور افراد کی زندگی پر ایک انتہائی غیر متناسب اثر پڑا ہے۔

کچھ بیماریوں اور نقائص سے کم یا زیادہ تکلیف ہوتی ہے جیسے کہ ڈیپریشن۔

یہ بھی سچ ہے کے عام طور پر معذور لوگوں کے پاس کم اختیارات ہوتے ہیں لیکن میرا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ معذور ہونے کو ہم المیہ کے طور پر سمجھیں۔

ایک بات یاد رکھیں کہ مسائل ہمارے وجود سے جڑے ہوئے ہیں۔ پیدا ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ ایک دن موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کبھی کبھی ایک مشکل زندگی ہم کو احساس دلاتی ہے کے زندگی میں معنی رکھنے والی اصل جیزیں کیا ہیں۔ اگر ہم ہمیشہ یہ یاد رکھیں گے تو ہم معذورافراد کے بارے میں کم متعصب ہوں گے۔

یہ مضمون بی بی سی ریڈیو کے انگریزی پرورگام ’اے پوائنٹ آف ویو‘ یا ’ایک نکتہِ نظر‘ سے لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں