جمی سیول: جنسی شکایات 500 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption جمی سیول نے 50 سال کے دوران بچوں اور کم سن لڑکیوں سمیت بہت سی خواتین کو جنسی جارحیت کا نشانہ بنایا

بی بی سی کے سابق ٹی وی پریزینٹر جمی سیول کے خلاف جنسی زیادتیوں کی شکایات کم سے کم 500 تک پہنچ گئیں۔ یہ شکایات بی بی سی کے پروگرام پینوراما کے بارے میں این ایس پی سی سی کی تحقیق سے سامنے آئی ہیں۔

این ایس پی سی سی ایک فلاحی ادارہ ہے اور اس سے پہلے اس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 28 پولیس سٹیشنوں کی حدود میں 214 جرائم ریکارڈ کیے گئے اور ان میں سے 34 معاملات میں جنسی زیادتی یا رسائی کی کوششیں کی گئیں۔

کہا جاتا ہے کہ جمی سیول نے 50 سال کے دوران بچوں اور کم سن لڑکیوں سمیت بہت سی خواتین کو جنسی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ ان میں زیادہ تعداد کی عمریں 13 سے 15 سال کے درمیان تھیں۔

دریں اثنا سامنے آنے والی یادداشتوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ سیول کو براڈمور نامی نفسیاتی ہسپتال میں مریضوں تک رسائی حاصل تھی۔ اس ہسپتال میں سیول کو ایسی ٹاسک فورس کی قیادت سونپی گئی تھی جس کا مقصد ہسپتال میں اصلاحات تجویز کرنا تھا۔

پینوراما کے ذریعے سامنے آنے والی جنسی زیادتی کی شکایات میں سے 16 کا تعلق براڈمور ہسپتال سے بتایا جاتا ہے۔

محکمۂ صحت اور بی بی سی اس سال کے آخر تک جمی سیول کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کرنے والے ہیں۔

این ایس پی سی سی کا کہنا ہے کہ اُس نے میٹروپولیٹن پولیس کے تعاون سے جمی سیول کے بارے شکایات رکھنے والوں کے لیے جو ’ہیلپ لائن‘ شروع کی تھی اس کے ذریعے مزید 50 شکایات موصول ہوئی ہیں۔

شکایات کرنے والوں میں زیادتیوں کا نشانہ بننے والے خود، یا ان کے عزیز یا ان کے بارے میں ایسے جاننے والے شامل ہیں جن کی فراہم کی ہوئی معلومات سے جاری تحقیقات میں مدد مل سکتی ہے۔

جمی سیول پر 50 سال کے دوران لگنے والے الزامات میں ایک آٹھ سالہ بچے سے زیادتی کا الزام بھی شامل ہے اور بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلی زیادتی کا ارتکاب 1940 میں اور آخری کا ارتکاب 2007 میں کیا گیا تھا۔

زیادہ تر زیادتیاں بی بی سی کی حدود، ہسپتالوں اور خود بچوں کے گھروں میں کی گئیں۔

این ایس بی سی سی میں بچوں کے تحفظ کے امور کے ڈائریکٹر پیٹر واٹ کا کہنا ہے کہ بی بی سی کے پروگرام بریک فاسٹ کے جمی سیول خود کو ہر نوع کی ’شکایات سے بالا‘ تصور کرتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ جمی کے بارے میں ’اعداد و شمار کے پیچھے ایسے بچے ہیں جن کی زندگیاں ایک ایسے موقع پرست نے برباد کر دیں جو جنسی درندہ تھا۔‘

پینوراما اور ریڈیو فور کی تحقیقات کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ نفسیاتی ہسپتال میں اصلاحات تجویز کرنے والوں کی قیادت کے لیے جمی سیول کا نام ایک بیورو کریٹ نے تجویز کیا تھا اور نام کی توثیق مختصر عرصے کے لیے وزیر صحت رہنے والی ایڈوینا کیورئی نے کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ تب سیول کے بارے کسی بھی طرح کو کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی۔ اب سیول کے بارے میں ہسپتال سے ملنے والی شکایات کی تعداد 16 تک پہنچ چکی ہے۔

جمی سیول کا 2011 میں 84 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا۔ وہ 60 ، 70 اور 80 کی دہائیوں میں باقاعدگی سے ٹی وی پر پیش ہوتے تھے۔

اسی بارے میں