’ایران، پاکستان کی عالمی ساکھ سب سے خراب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Globescan
Image caption منفی رائے رکھنے والے کینیڈینز میں سات پوائنٹس کا اضافہ ہوا

بی بی سی عالمی سروس کے لیے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق ایران، پاکستان اور شمالی کوریا وہ ممالک ہیں جن کے دنیا پر اثر کے بارے میں لوگ سب سے زیادہ منفی رائے رکھتے ہیں۔

عالمی رائے عامہ کے اس سالانہ جائزے میں دنیا کے 24 ممالک کے تقریباً 25 ہزار افراد نے حصہ لیا اور بین الاقوامی پولنگ فرم گلوب سکین نے یہ سروے پروگرام آن انٹرنیشنل پالیسی ایٹیچیوڈز (پیپا) کے ساتھ مل کر کیا۔

دسمبر 2013 سے اپریل 2014 کے دوران کروائے گئے اس سروے کے مطابق ایران کے بارے میں 60 فیصد افراد کی رائے منفی رہی جبکہ پاکستان اور شمالی کوریا کے بارے میں 58 فیصد افراد ایسی رائے کے مالک پائے گئے۔

اسرائیل منفی اثر رکھنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر رہا جس کے بارے میں 50 فیصد افراد کی رائے منفی رہی۔

گزشتہ سروے میں 57 فیصد افراد نے دنیا پر پاکستان کے اثر کے بارے میں منفی رائے ظاہر کی تھی اور اس برس یہ شرح مزید ایک فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والے افراد کی شرح صرف 16 فیصد رہی جو کہ سب سے کم ہے۔ سروے میں شامل دیگر ممالک میں صرف ایران کے لیے اتنی کم مثبت شرح دیکھی گئی۔

سروے میں شامل ممالک میں سے 22 میں پاکستان کے بارے میں زیادہ تر منفی رائے پائی گئی جبکہ صرف دو میں یہ رائے مثبت تھی جن میں سے ایک خود پاکستان اور دوسرا انڈونیشیا تھا۔

پاکستان میں 44 فیصد افراد نے ملک کی شبیہ کو مثبت قرار دیا جبکہ انڈونیشیا میں یہ شرح 40 فیصد تھی۔

منفی رائے رکھنے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق مغربی ممالک سے تھا۔ امریکہ میں 85 فیصد، جرمنی میں 80 فیصد افراد کے خیال میں دنیا پر پاکستان کا اثر منفی رہا جبکہ کینیڈا میں ایسا سوچنے والوں کی تعداد میں سات پوائنٹس کا واضح اضافہ دیکھا گیا۔

اس کے برعکس سپین میں پاکستان کے دنیا پر منفی اثر کی سوچ رکھنے والوں کی تعداد میں گذشتہ برس کے مقابلے میں 14 فیصد کمی دیکھی گئی۔

دنیا کے دیگر ممالک کو دیکھا جائے تو دنیا میں روس کا تاثر گذشتہ برس کے دوران خاصا خراب ہوا ہے۔

اگرچہ یہ سروے کرائمیا کے بحران سے قبل کیا گیا لیکن اس سے پتہ چلا کہ 2005 میں اس سروے کے آغاز کے بعد سے اب تک گذشتہ برس میں روس کے بارے میں عالمی رائے عامہ سب سے منفی رہی اور 45 فیصد افراد نے روس کی شبیہ کو منفی قرار دیا جبکہ اس کے لیے مثبت سوچ رکھنے والوں کی تعداد 31 فیصد رہی۔

روس کے علاوہ امریکہ کے بارے میں بھی منفی رائے میں اضافہ ہوا اور سپین کے شہریوں میں ایسی سوچ رکھنے والوں میں 19 پوائنٹس، جرمنی میں 18 جبکہ برازیل میں 15 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

گلوب سکین کے لوائینل بیلیئر کا کہنا ہے کہ ’یہ کوئی اتفاق نہیں کہ وہ ممالک جہاں امریکہ کے بارے میں رائے بگڑی ہے، وہ ہیں جنھیں امریکہ کی جانب سے نگرانی کا سامنا رہا ہے جس کا راز گذشتہ برس افشا ہوا۔‘

یورپی یونین کے بارے میں رائے عامہ اس پول کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ بری رہی تاہم یورپی ملک جرمنی مثبت رائے کے بارے میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا اور 60 فیصد افراد نے اس کے دنیا پر اثرات کو مثبت قرار دیا۔

اسی بارے میں