پاسپورٹ برائے فروخت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اکثر جاسوسی فلموں میں ایک گھسا پٹا منظر دکھایا جاتا ہے، جس میں کسی جاسوس یا مفرور کے پاس نوٹوں سے بھرا سوٹ کیس ہوتا ہے جس کی جیبوں میں مختلف ملکوں کے پاسپورٹ موجود ہوتے ہیں۔

لیکن اب جاسوس ہی نہیں بلکہ بہت سے ’اقتصادی شہری‘ بھی دوسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ہینلی اینڈ پارٹنرز سے منسلک شہریت کے امور کے ماہر کرسچن کیلن اس سلسلے میں بہت سے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ ہر سال ہزاروں لوگ مجموعی طور پر تقریباً دو ارب ڈالر خرچ کر کے دوسرا اور کبھی کبھی تیسرا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جیسے آپ اپنی سرمایہ کاری میں مختلف ذرائع شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح آپ اپنے پاسپورٹوں میں بھی مختلف آپشنز رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘ یہ راستہ نہ صرف چینی اور روسی شہریوں میں مقبول ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام بھی اس کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

اور اس بات کا ان ممالک نے بھی نوٹس لیا ہے جن کے پاس وسائل کم ہیں۔ گذشتہ ایک سال میں ہالینڈ، سپین، اینٹی گوا اور باربادوس، گرینیڈا اور مالٹا نے براہِ راست سرمایہ کاری کے بدلے میں شہریت دینے کی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں۔

تاہم ان پالیسیوں کے حوالے سے شفافیت اور احتساب کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

جنوری میں یورپی کمیشن کی نائب صدر ویویئن ریڈنگ نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’شہریت برائے فروخت نہیں ہونی چاہیے۔‘

مگر فی الحال تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ دولت مند لوگ فائدے میں ہیں اور کم از کم چھ ایسے ممالک ہیں جو براہِ راست سرمایہ کاری کے ذریعے شہریت دیتے ہیں اور وہاں رہنے کی کوئی بندش بھی نہیں ہے۔

دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں شہریت برائے فروخت ہی ہے۔

ڈومینیکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شہریت حاصل کرنے کے لیے سستی ترین آفر چھوٹا سا کیریبیئن جزیرہ ڈومینیکا دیتا ہے۔ ایک لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری، کچھ فیسوں اور انٹرویو کے ذریعے اس جزیرے کی شہریت خریدی جا سکتی ہے۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ انٹرویو کمیٹی کا اجلاس مہینے میں صرف ایک بار ہوتا ہے، اس لیے ڈومینیکن پاسپورٹ لینے میں پانچ سے 14 ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

ڈومینیکا دولتِ مشترکہ کا حصہ ہے، اس لیے اس کے شہریوں کو برطانیہ میں خصوصی مراعات مل سکتی ہیں اور وہ سوئٹزرلینڈ سمیت 50 ممالک میں بغیر ویزے کے سفر کر سکتے ہیں۔

سینٹ کٹس اینڈ نیوس

کیریبیئن جزیرے سینٹ کٹس اینڈ نیوس میں دنیا کا سب سے پرانا سرمایہ کاری سے شہریت حاصل کرنے کا پروگرام ہے جو 1984 میں شروع کیا گیا تھا۔

شہریت حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ان سے سستا طریقہ وہ ہے کہ جس کے تحت آپ سینٹ کٹس اینڈ نیوس شوگر انڈسٹری ڈائورسیفکیشن فاؤنڈیشن کو ڈھائی لاکھ ڈالر کا ناقابلِ واپسی عطیہ کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ چار لاکھ ڈالر کی جائیداد خریدیں۔

امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی اس پروگرام پر تنقید کر چکا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ ایرانی باشندے یہاں سے پاسپورٹ حاصل کر کے امریکہ میں داخل ہو سکتے ہیں یا ایسی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں جس سے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو۔ سینٹ کٹس نے دسمبر 2011 میں اس پروگرام پر ایرانی شہریوں کے لیے پابندی لگا دی تھی۔

تاہم پروگرام کی تشکیل میں مدد کرنے والے ہینلی اینڈ پارٹنرز کے کرسچن کیلن کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس میں مسائل ہیں تاہم سینٹ کٹس خاصے اچھے انداز میں منظم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک اعتبار سے شاید سینٹ کٹس اس سلسلے میں ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کیریبیئن پاسپورٹ ان ’عالمی شہریوں‘ کے لیے اچھے ہیں جو بعد میں دیگر سرمایہ کاری کے بدلے شہریت والے پروگراموں میں حصہ لینا چاہتے ہیں جیسے پرتگال یا سپین کے پروگرام۔

اینٹی گوا اور باربادوس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اینٹی گوا اور باربادوس نے اپنا شہریت برائے سرمایہ کاری پروگرام 2013 کے آخر میں سینٹ کٹس کی طرز پر شروع کیا ہے یعنی چار لاکھ کی جائیداد خریدیے یا پھر کسی خیراتی ادارے کو دو لاکھ ڈالر عطیہ کیجیے۔

وزیراعظم بالڈون سپینسر نے اس پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے ممالک اپنے اقتصادی مسائل کی وجہ سے شہریت برائے سرمایہ کاری پروگرام متعارف کروا رہے ہیں۔

انھوں نے سینٹ کٹس اور امریکہ کی مثالیں دیں۔ 1990 سے امریکہ میں ای بی فائیو نامی اس پروگرام کے تحت 6.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے عوض 29 ہزار ویزے دیے گئے ہیں۔

تاہم وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اینٹی گوا اور باربادوس کا شہریت برائے سرمایہ کاری پروگرام سب لوگوں کے لیے کھلی چھوٹ نہیں ہے۔

مالٹا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

مالٹا کی چھوٹی سی ریاست کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے امیر غیر ملکیوں کو بغیر رہائشی شرائط کے ساڑھے چھ لاکھ یورو کی سرمایہ کاری کے عوض شہریت دینے کی پالیسی اختیار کی جو یورپی یونین میں سستی ترین شہریت تھی۔

وزیراعظم جوزف مسکات کا اندازہ تھا کہ پہلے سال 45 افراد اس پروگرام میں درخواست دیں گے جس سے تین کروڑ یورو جمع ہوں گے۔

تاہم یورپی یونین کے اہلکاروں کی جانب سے دباؤ کے بعد درخواست گزاروں پر ایک سال تک مالٹا میں رہائش رکھنے کی شرط عائد کر دی گئی اور سرمایہ کاری کی کم ترین سطح ساڑھے 11 لاکھ یورو کر دی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سارے تنازعے میں شہریت کی تعریف پر خوب بحث کی گئی ہے۔

قبرص

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

قبرص ایک اور یورپی ملک ہے جو شہریت برائے سرمایہ کاری کا پروگرام متعارف کروا چکا ہے۔

مارچ میں شہریت کے لیے سرمایہ کاری کی حد کو 20 لاکھ یورو تک لایا گیا تھا جس کا مقصد ان روسی سرمایہ کاروں کو خوش کرنا تھا جنھیں اس وقت شدید نقصان ہوا تھا جب قبرص نے یورپی یونین سے مالی امداد لی تھی۔

20 لاکھ یورو کی حد صرف اس صورت میں لاگو ہوگی جب آپ ایک گروپ کے طور پر درخواست دیں جس کی کل مالیت سوا کروڑ ہو۔ انفرادی طور پر درخواست دینے کے لیے 50 لاکھ یورو کی حد ہے۔

اسی بارے میں