’امریکی فوج برگڈال کے لیے پاکستان میں گھسنے کو تیار تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پینٹاگون کے ایک سابق اہلکار کا کہنا ہے کہ سارجنٹ برگڈال کی رہائی اس وقت مشکل ہو گئی جب انھیں قید کے بعد پاکستان منتقل کر دیا گیا

پینٹاگون کے ایک سابق افسر کا کہنا ہے کہ سارجنٹ بو برگڈال کی رہائی کے لیے امریکی فوج پاکستانی سرحدوں کے اندر گھسنے کے لیے پوری طرح سے تیار تھی لیکن ٹھوس خفیہ معلومات کی عدم موجودگی میں وہ ایسا کرنے سے باز رہی۔

گذشتہ سال تک افغانستان اور پاکستان کے معاملات پر امریکی وزارت دفاع میں سابق نائب وزیر دفاع ڈیوڈ سڈني نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2009 میں برگڈال کو یرغمال بنائے جانے کے بعد سب سے پہلے اس بات کی کوشش کی گئی تھی کہ انھیں پاکستان منتقل کیے جانے سے روکا جائے۔

انھوں نے کہا کہ جب ایک بار سارجنٹ برگڈال پاکستان پہنچ گئے تو ان کی رہائی مشکل ہو گئی اور اس کے لیے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی مدد طلب کی گئی۔

دریں اثنا برگڈال کے آبائی شہر ہیلی میں پانچ سال بعد طالبان کی قید سے رہائی ملنے اور ان کی وطن واپسی کی خوشی میں منعقد کی جانے والی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔

اس کی وجہ جہاں اس میں کثیر تعداد میں شامل ہونے والے لوگوں کی سلامتی کا خدشہ ہے، وہیں انھیں بعض حلقوں میں میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا کہا جا رہا ہے۔ اسی سبب بہت سے مبصرین اور فوجی انھیں بھگوڑا قرار دے رہے ہیں اور ان کے خیال میں وہ سزا کے مستحق ہیں۔

سنہ 2009 میں سارجنٹ برگڈال کے قید ہونے کے حالات غیر واضح ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ انھوں نے بغیر اجازت پکتیکا صوبے میں فوجی چوکی چھوڑ دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سرجنٹ برگڈال کی رہائی کے عوض امریکہ کو گوانتانامو جیل سے پانچ سینيئر افغان قیدی رہا کرنے پڑے

ڈیوڈ سڈني کا کہنا تھا: ’ہمیں یہ معلوم تھا کہ برگڈال حقاني نیٹ ورک کے قبضے میں ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئی ایس آئی اور حقاني نیٹ ورک کے درمیان ایک مخصوص رشتہ ہے، لیکن جہاں تک مجھے علم ہے ہمیں اس معاملے میں پاکستان سے کوئی مدد نہیں ملی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ برگڈال پاکستانی سر زمین پر تھے اور جس تنظیم کے پاس ان کے بارے میں اہم معلومات تھیں وہ پاکستانی حکومت کا حصہ ہے۔

انھوں نے کہا: ’ایسے میں یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ برگڈال کو رہا کروائیں۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا اور میرے خیال میں مستقبل میں جب امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات کی بات ہو تو اس پر امریکہ کو غور کرنا چاہیے۔‘

طالبان کی طرف سے برگڈال کی رہائی کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد سے امریکہ میں اس حالیہ معاہدے کے متعلق بحث مزید تلخ ہوتی جا رہی ہے کہ کیا برگڈال کو رہا کروانے کا یہی واحد راستہ تھا۔

واشنگٹن پوسٹ اخبار کے مطابق فوجی حکام کو کم از کم دو بار پاکستان میں برگڈال کے ٹھکانے کا سراغ ملا تھا اور واشنگٹن میں اس بات پر بحث بھی ہوئی تھی کہ پاکستان میں گھس کر ان کو رہا کروا لیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بووی برگڈال کے والدین رہائي کے بعد وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما سے ملے

اخبار کے مطابق اس وقت امریکی فوج کے سب سے اعلیٰ افسر ایڈمرل مائیک ملن اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا پاکستان میں اس حوالے سے کارروائی کے حق میں تھے۔

ڈیوڈ سڈني کے مطابق اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں ہونے والی امریکی کارروائی کے بعد یہ فیصلہ مزید مشکل ہو گیا تھا کیونکہ پاکستانی فوج کے ساتھ تعلقات بہت خراب ہو گئے تھے۔

انھوں نے بتایا: ’پاکستانی فوج نے یہ حکم جاری کر دیا تھا کہ اگر پاکستانی حدود کے اندر امریکی ہیلی کاپٹر نظر آ جائیں تو انھیں مار گرایا جائے۔ ایسے میں کسی بھی حکمتِ عملی کے لیے ہمیں ٹھوس خفیہ معلومات کی ضرورت تھی جو دستیاب نہیں تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ سارجنٹ برگڈال تقریباً پانچ سال تک حقانی نیٹ ورک کی قید میں رہے اور اس دوران برگڈال کی رہائي کے لیے امریکی حکومت نے پاکستانی حکام پر دباؤ بھی ڈالا۔

ڈیوڈ سڈني نے کہا: ’میرے خیال میں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حقاني نیٹ ورک کے ساتھ اپنے تعلقات کو امریکہ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور اگر وہ ہماری مدد کرتے تو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر بہتر اثر پڑتا۔‘

اسی بارے میں