روس لازماً یوکرین سے بات کرے: جی سیون

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانیہ اور امریکہ چاہتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے صدور کو بات کرنی چاہیے

صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون کے رہنماؤں نے روس سے کہا ہے کہ اسے یوکرین کے نئے قیادت کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے تاکہ بحران کا حل نکالا جا سکے۔

امریکی صدر براک اوباما اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے روس پر زور دیا ہے وہ یوکرین کے نو منتخب صدر پیٹرو پوروشینكو کو تسلیم کرے۔

جی سیون کے رہنماؤں نے برسلز میں اجلاس کے دوران کہا کہ وہ پوروشینكو کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں برطانوی وزیرِ اعظم نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات بھی کی ہے اور انہیں یوکرین کے بحران کے حل کے بارے میں اپنے واضح موقف سے آگاہ کیا۔

بحران کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب پیوتن نے کسی مغربی ملک کے رہنما سے بالمشافہ ملے۔

ملاقات میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’آج جو حالات ہیں، انھیں قبول نہیں کیا جا سکتا اور اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ روس، یوکرین کے صدر کو تسلیم کرے اور ان کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ہم چاہتے ہیں کشیدگی کم ہو جس کے لیے ضروری ہے کہ ہتھیاروں اور لوگوں کی سرحد پار نقل و حرکت پر پابندی لگے۔ ان محاذوں پر ہمیں کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔‘

جمعہ کو ڈی ڈے کی یاد میں تقریب کے موقع پر روسی صدر پیوتن نارمنڈي میں ہوں گے۔ یوکرین کے نئے صدر پیٹرو پوروشینكو بھی وہاں موجود ہوں گے اور پیوتن کہہ چکے ہیں کہ یوکرینی صدر سے ان کی ملاقات کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر پیرس پہنچنے سے پہلے، برسلز میں یوکرین کے بحران پر مرکوز جی سیون ممالک کے اجلاس کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے روس کے ارادوں پر سوال کیا۔

اوباما نے فرانس سے بھی کہا کہ اسے روس کے ساتھ ایک ارب یورو سے زیادہ مالیت کے حفاظتی سودے کو منسوخ کر دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سودے کی وجہ سے مشرقی یورپ کے ممالک کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے کچھ تحفظات ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ صرف میری فکر ہے کہ روس اور فرانس کے درمیان دفاعی سودا ایسے وقت ہو رہا ہے جب روس بین الاقوامی قوانین، علاقائی سالمیت اور اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے‘۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ’میں جانتا ہوں کہ فرانس کے لیے بھی یہ سودا کافی اہمیت رکھتا ہے لیکن اسے فی الحال ملتوی تو کیا ہی جا سکتا ہے۔‘

پیرس میں ڈی ڈے کے موقع پر اوباما اور پیوتن نے تو ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کی لیکن دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ ضرور ملے۔

اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوکرین کو مشرق اور مغرب کے درمیان طاقت کی لڑائی میں مہرے کی طرح استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ کہ یوکرین، روس اور یورپ کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

روس نے اس سال مارچ میں یوکرین کے علاقے كرائميا کو اپنا حصہ بنا لیا تھا اور تب ہی سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ جرمنی اور امریکہ جیسے کئی مغربی ملک اس معاملے میں یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں.

اسی بارے میں