’میں تبھی آزاد ہوں گی جب بیٹے کی خبر ملے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption پروینہ آہن گر کشمیر میں لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی کی بانی چیئرپرسن ہیں۔ سنہ 2005 میں ان کا نام نوبل امن انعام کی ایک ہزار نامزد خواتین کی لسٹ میں شامل تھا

کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک علاقائی تنازعے کی نگاہ سے دیکھنا وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے اس کا اندازہ مجھے حال ہی میں لندن میں ہونے والی ایک کانفرنس سے ہوا۔

دو جون کو برطانیہ کی دو یونیورسٹیوں ویسٹ منسٹر اور وارک نے ’حال متنازع اور مستقبل پر امکان‘ کے عنوان سے کشمیر پر لندن میں ایک کانفرنس بلائی جس کا مقصد کشمیر کو محض ایک علاقائی تنازعے کی بجائے انسانی حقوق اور کشمیری عوام کی مسائل نگاہ سے دیکھنا تھا۔

اس کانفرنس کے منتظم پروفیسر دبیش آنند کے مطابق وہ دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ یہ صرف بھارت یا پاکستان کا معاملہ نہیں ہے۔

’ہم کشمیریوں، وہاں کے عوام اور انسانیت کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کو اس بات کا حق ہے کہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

دن بھر جاری رہنے والی اس کانفرنس میں 12 ماہرین نے اپنے مضامین پیش کیے۔

ظاہر ہے دور بیٹھے ہوئے، چاہے وہ اسلام آباد ہو، دہلی ہو یا لندن، ہمیں کشمیریوں اور ان کی مشکلات کے بارے میں کوئی واضح تصویر نہیں ملتی۔ شاید اسی لیے ایک سوال جو کانفرنس میں بار بار اٹھایا گیا وہ عام کشمیریوں کے بارے میں تھا جو کئی برسوں سے ایک مقبوضہ علاقے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

سب کو یہ سننے کا انتظار تھا کہ وہ اپنی زبان میں وہاں کے حالات کیسے بیان کریں گے۔

پروینہ آہن گر کشمیر میں لاپتہ افراد کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی کی بانی چیئر پرسن ہیں۔ سنہ 2005 میں ان کا نام نوبل امن انعام کی ایک ہزار نامزد خواتین کی لسٹ میں شامل تھا۔ انھیں ’ آئرن لیڈی آف کشمیر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔اور جب انھوں نے اپنی کہانی ختم کی تو شاید سبھی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

پروینہ آہن گر سرینگر میں ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اگست سنہ 1990 میں رات کو تین بجے پروینہ کے سب سے بڑے بیٹے جاوید احمد آہن گر کو ان کے گھر سے بھارتی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا اور اس دن سے لے کر آج تک پروینہ نے اپنے بیٹے کو پھر کبھی نہیں دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC Urdu
Image caption اے پی ڈی پی گذشہ دس سالوں سے ہر ماہ کی دس تاریخ کو دھرنا بھی دیتی ہے

انھیں پولیس یا قانون سے کوئی مدد نہیں ملی۔ پروینہ کہتی ہیں عدالتیں انصاف کا گھر ہوتی ہیں لیکن انھیں وہاں بھی انصاف نہیں ملا۔

’دہلی ہو یا سری نگر، جو کوئی حکومت آئی اس نے کچھ نہیں کیا۔ بھارت بے شرم ہے۔ وہ ایک کان سے سنتا ہے تو دوسرے کان سے نکال دیتا ہے۔‘

چار سال انتظار اور جدوجہد کے بعد آخر پروینہ نے اے پی ڈی پی نامی تنظیم بنائی اور اب تک یہ ادارہ جبری لاپتہ ہونے والے سینکڑوں افراد کے خاندانوں کو قانونی، طبی، تعلیمی اور اقتصادی امداد فراہم کر رہا ہے۔

اے پی ڈی پی گذشتہ دس سالوں سے ہر ماہ کی دس تاریخ کو دھرنا بھی دیتی ہے۔

چند سال پہلے اے پی ڈی پی کی کارروائیاں محدود رہیں لیکن سنہ 2010 میں اقوامِ متحدہ سے سالانہ دس ہزار ڈالر کی امداد ملنے پر ان کی تنظیم اب جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں کی مدد کرنے کے علاوہ دیگر منصوبوں جیسے کہ تشدد کے متاثرین کی بھی مدد کرتی ہے۔

پروینہ کا کہنا ہے کہ سری نگر میں ان کے دفتر میں ہر روز پانچ سے آٹھ کیس آتے ہیں جو بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں یا تو تشدد یا پھر جبری گمشدگی کا ہدف ہوتے ہیں۔

یہ عجیب بات ہے کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود پروینہ جیسے لوگوں اور ان کی جدوجہد کے بارے میں دنیا کم ہی جانتی ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باوجود عالمی میڈیا اس پر ایک حد سے زیادہ توجہ نہیں دے پا رہا۔

حالانکہ پروینہ آہنگر کا سوال بڑا سیدھا سادھا ہے۔

’اگر آٹھ سے دس ہزار افراد لاپتہ ہیں اور انھیں سکیورٹی فورسز نے اٹھایا ہے تو کہاں رکھا ہے؟ وہ کس حال میں ہیں، مردہ ہیں یا زندہ ہیں؟ کشمیر میں زیادہ تر بوڑھے لوگ نظر آتے ہیں کیونکہ ہمارے نوجوان لاپتہ ہیں۔اس لیے تڑپ ہے اپنے بچوں کے لیے۔‘

آئرن لیڈی آف کشمیر پروینہ آہنگر کہتی ہیں کہ وہ آرام سے نہیں بیٹھیں گی اور تب تک لڑتی رہیں گی جب تک انھیں اپنے بیٹے کی اور ان جیسی تمام ماؤں کو ان کے بیٹوں کی خبر نہیں مل جاتی۔

پچھلے 24 سال سے پروینہ آہن گر اس امید سے یہ لڑائی لڑ رہی ہیں کہ ایک نہ ایک دن انھیں انصاف ضرور ملے گا۔

اسی بارے میں