پڑوسی ممالک ہماری حمایت کرتے ہیں: تھائی فوجی حکومت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مہینوں سے جاری کشیدگی اور حکومت مخالف احتجاج کو ختم کرنے کے لیے منتخب حکومت کو برطرف کیا ہے

تھائی لینڈ میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہونے والی فوجی حکومت نے کہا ہے کہ پڑوسی ممالک ان کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

تھائی فوجی حکومت بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

فوج کے ایک ترجمان ینگوتھ مییالارپ نے کہا کہ چین اور ویت نام نے ان کی حمایت کی ہے جبکہ برما نے علیحدہ سے کہا ہے کہ وہ ہماری حکومت کر تسلیم کرتا ہے۔

تھائی لینڈ میں 22 مئی کو مارشل لا کے نفاذ کے بعد فوج کے سربراہ نے فوجی بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت فوج نے سنبھال لی ہے اور ملک میں مہینوں سے جاری کشیدگی کو ختم کر کے ملک میں استحکام قائم کیا جائے گا۔

دنیا بھر سے درجنوں ممالک نے اس بغاوت کی مذمت کی تھی اور تھائی لینڈ کا سفر کرنے کے بارے میں اپنے شہریوں کو خبردار کیا تھا۔

آسٹریلیا اور امریکہ نے تھائی لینڈ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کر دیں ہیں، تاہم تھائی لینڈ کے دیگر پڑوسی اور جنوبی مشرقی ریاستوں کی تنظیم آسیان تھائی لینڈ میں فوجی بغاوت کے معاملے پر خاموش ہیں۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اب وہ کئی ملکوں میں جا کر وہاں تھائی بغاوت کی وجوہات اور ملک کے مستقبل کے بارے میں اپنے منصوبے کی وضاحت کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق بغاوت کے بعد ملک کی سب سے بڑی صنعت سیاحت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور سیاحت کے شعبے سے منسلک لوگ سیاحوں کی آمد میں کمی کی پیشن گوئیاں کر رہے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مہینوں سے جاری کشیدگی اور حکومت مخالف احتجاج کو ختم کرنے کے لیے منتخب حکومت کو برطرف کیا ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ فوجی حکومت ملک کے سابق وزیرِ اعظم تھاکسین شنوواترا کی طاقت اور اثر کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

تھاکسین شنوواترا کو سنہ 2006 میں ایک فوجی بغاوت میں اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد بھی ان کی وفادار سیاسی جماعتیں انتخابات جیتتی رہیں۔

گذشتہ دنوں نئے فوجی حکمران جنرل پرے یوتھ چان اوچا نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں تمام لوگوں سے احتجاج ختم کرنے اور تعاون کرنے کا کہا تھا۔ انھوں نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ فوج کے خلاف کسی قسم کی مزاحمت کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

فوجی حکومت نے ملک کی سابق وزیرِ اعظم ینگ لک شنوواترا سمیت کئی سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تھا۔ سابق وزیرِاعظم کو رہا کر دیا گیا ہے لیکن ان پر اب بھی کچھ پابندیاں عائد ہیں۔

اسی بارے میں