کتاب کی جلد میں انسانی کھال استعمال کی گئی

جلد بندی میں انسانی کھال تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ کتاب 1880 کے وسط میں لکھی گئی اور اس کی جلد بندی میں انسانی کھال استعمال کی گئی ہے

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک لائبریری میں ڈیس ڈیسٹنیز ڈی لا مے یا ’روح کی تقدیر‘ نامی ایک کتاب ہے جس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کی جلد بندی میں انسانی کھال استعمال کی گئی ہے۔

یہ کتاب 1880 کے وسط میں لکھی گئی تھی اور یہ ہیوٹن لائبریری میں 1930 سے موجود ہے۔ یہ کتاب مصنف آرسن ہاؤسے نے 1880 کے وسط میں اپنے دوست ڈاکٹر لدووک باؤلینڈ کو دی تھی۔ ہاؤسے فرانسیسی شاعر اور ناول نگار تھے۔

ڈاکٹر باؤلینڈ ہی نے اس کتاب کی جلد بندی کے لیے انسانی کھال استعمال کی اور یہ کھال ایک ایسی ذہنی مریضہ کی تھی جو فطری طبی اسباب سے انتقال کر گئی تھی اور جس کی لاش کو لاوارث قرار دے دیا گیا تھا۔

ہیوٹن لائبریری میں ہارورڈ ماس سپیکٹرومیٹری اینڈ پروٹومکس ریسورس لیبارٹری کے ڈائریکٹر بل لین ہیوٹن لائبریری کے بلاگ میں لکھتے ہیں: ’اس کتاب کے ماخذ اور دستیاب تجزیاتی مواد سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جلد میں استعمال کیا جانے والا چمڑا انسانی کھال سے بنا تھا اور جلد انسانی کھال ہی کی ہے۔‘

کتابوں کی جلد بندی کے فن میں انسانی کھال کے استعمال کی روایت سولھویں صدی کے اوائل تک جاتی دکھائی دیتی ہے اور اس کے لیے ’اینتھروپوڈرمک ببلیوپیگی‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔

انیسویں صدی میں ایسے حوالے ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پھانسی پانے والے لوگوں کے جسم طبی تجزیوں کے لیے دے دیے جاتے تھے اور بعد میں ان کے جسموں کی کھال جلد سازی کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

’روح کی تقدیر‘ نامی اس کتاب کے اندر ڈاکٹر باؤلینڈ کا لکھا ہوا ایک نوٹ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس کتاب کی زیبائش کو بڑھانے کے لیے اسے کسی بھی مہر کے زیور سے آراستہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’میں نے انسانی جلد کا یہ ٹکڑا ایک عورت کی پیٹھ سے لیا تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’انسانی روح کے بارے میں لکھی جانے والی یہ کتاب اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی جلد بھی انسانی کھال سے ہی بنائی جائے۔‘

اس کتاب میں روح اور حیات بعد از مرگ کے مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہاروڈ میں یہ واحد کتاب ہے جس کی جلد بندی کے لیے انسانی کھال استعمال کی گئی ہے۔

اس بات کی تصدیق کے لیے کہ یونیورسٹی میں قانون اور میڈیکل سکولوں کی لائبریریوں میں موجود تمام کتابوں کی جلدوں کا تجزیہ کیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کوئی اور کتاب تو ایسی نہیں جس کی جلد میں انسانی کھال کا استعمال کیا گیا ہو۔

ان تجزیوں سے یہ ثابت ہوا کہ تمام ایسی کتابیں جن کی جلد بندی چمڑے سے کی گئی تھی ان کے لیے بھیڑ کی کھال استعمال کی جاتی تھی۔

اسی بارے میں