ڈی ڈے میں حصہ لینے والا ہر شخص ہیرو ہے: اولاند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ’جس نے بھی ڈی ڈے میں حصہ لیا ان کا فرانس پر احسان ہے اور نہ ہی فرانس امریکی یکجہتی کو بھولے گا‘

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے 70 سال قبل فرانس کے شہر نارمنڈی میں اتحادیوں کے داخل ہونے اور نازیوں کو شکست دینے کی تقریبات کا آغاز کیا ہے۔

اس تقریب میں امریکی صدر براک اوباما بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر اوباما نے اس موقعے پر کہا کہ فرانسیسی ساحلوں پر آزادی کے حوالے سے امریکی عزم ’خون سے تحریر‘ ہے۔

فرانسیسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا ہر وہ شخص ہیرو ہے جس نے ڈی ڈے میں حصہ لیا۔ انھوں نے ڈی ڈے میں ہلاک ہونے والوں کو خراج تقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اس دن دنیا تبدیل ہو گئی‘۔

’جس نے بھی ڈی ڈے میں حصہ لیا ان کا فرانس پر احسان ہے اور نہ ہی فرانس امریکی یکجہتی کو بھولے گا۔‘

مغربی ممالک چھ جون کو 70 سال قبل فرانس کے شہر نارمنڈی میں اتحادیوں کے داخل ہونے اور نازیوں کو شکست دینے کی یاد میں ’ڈی ڈے‘ منا رہے ہیں۔

اس موقعے پر مغربی ممالک کے رہنما نارمنڈی میں جمع ہوئے ہیں اور ویسٹرایم کے ساحل پر ملاقات کی۔ یہ ان پانچ سمندری ساحلوں میں سے ایک ہے جہاں اتحادی افواج چھ جون سنہ 1944 کو اتری تھیں۔

امریکی صدر براک اوباما کے علاوہ برطانیہ کی ملکہ اور روس کے صدر ولادی میر پوتن بھی اس تقریب میں شریک ہیں۔

اس تقریب کے دوران رضا کار 70 سال پہلے نارمنڈی پر کیے جانے والے حملے کے مناظر دہراتے ہیں جو قابلِ دید ہوتا ہے۔

اس دن کی تقریبات کا آغاز ویسٹرایم کے قریب پیگاسس پل پر دیے روشن کرنے سے کیا گیا۔

چھ جون سنہ 1944 کے دن کا آغاز برطانوی افواج کے گلائڈر پائلٹ رجمنٹ، آکسفرڈ شائر کی دوسری بٹالین اور بکنگھم شائر کی انفنٹری کے اس اہم پل پر خاموشی سے اتر کر قبضہ کرنے سے ہوا تھا۔

اس سے نارمنڈی کے ساحلوں پر اترنے والے اتحادی فوجیوں کو اندر جانے کا راستہ مل گیا اور جرمن افواج ساحل پر حملے کو روک نہ سکیں۔

جمعرات کو شہزادہ چارلس نے ان فوجیوں کی یاد میں وہاں پھول رکھے جہاں پر ایک فوجی گلائڈر اترا تھا۔اس کے بعد وہ گلائڈر پائلٹ رجمنٹ کے سابق فوجیوں سے ملے۔

جمعے کو ہونے والی تقریب میں 21 توپوں کی سلامی بھی دی جائے گی۔

اسی بارے میں