بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکے، 50 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption کئی طلبا نے فرار ہو کر جان بچائی جبکہ کئی کو یرغمال بنا لیا گیا

عراقی دارالحکومت بغداد میں سلسلہ وار بم دھماکوں میں کم سے کم 50 لوگ ہلاک ہو گئے ہیں۔

سنیچر کی شام بغداد کے مختلف حصوں میں ایک گھنٹے کے دوران لگ بھگ آٹھ بم دھماکے ہوئے جن میں زیادہ تر شیعہ آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل دن کے وقت عسکریت پسندوں نے مغربی صہر انبار کی ایک یونیورسٹی پر حملہ کر دیا اور درجنوں طلبا کو یرغمال بنا لیا۔

ادھر موصل میں بھی جمعے کے حملوں میں درجنوں لوگ مارے گئے ہیں۔

عراق میں تشدد ایک مرتبہ پھر انتہا کو پہنچ گیا ہے اور اس درجہ کا تشدد گذشتہ ایک دہائی میں دیکھنے کو نہیں ملا۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق گذشتہ برس کم سے کم 8000 افراد ہوئے جو سنہ 2007 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔

عراقی حکومت بڑھتی ہوئی خونریزی کا الزام سنی شدت پسندوں پر عائد کرتی ہے جس کا تعلق ہمسایہ ریاست شام میں جاری لڑائی سے جوڑا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anbar University
Image caption یونیورسٹی پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم نوری المالکی کی شیعہ اکثریت والی حکومت اس کی ذمہ دار ہے۔

سنیچر کو بغداد کے ضلعے البیاع میں ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہوئے والوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جو بلیئرڈ کھیل رہے تھے۔ جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریش کے مطابق مرنے والوں کی تعداد نو ہے۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سنیچر کی دوپہر القاعدہ سے الگ ہونے والے ایک گروہ آئی ایس آئی ایس کے شدت پسندوں نے انبار صوبے کے ہر رمادی میں ایک یونیورسٹی کیمپس پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے کئی گھنٹوں تک متعدد طلبا کو یرغمال بنائے رکھا۔ اطلاعات ہیں کہ حملے مںی دو سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوئے جبکہ ایک ہسپتال سے اطلاع ہے کہ وہاں ایک طالب علم اور ایک پولیس والے کی لاش لائی گئی ہے۔

تاہم صوبائی کونسل کے سربراہ صباح کرہوٹ کے مطابق ’یہ حملہ پر امن طریقے کے ختم ہوا اور کسی طالب علم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘

انبار صوبہ عراق میں جارت فرقہ وارانہ تشدد کا مرکز رہا ہے یہاں رمادی سمیت کئی علاقے سنی عسکریت پسندوں ے کنٹرول میں ہیں۔

جمعے کو موصل میں سنی باغیوں اور حکومتی فوج کے درمیان جھڑپ میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے۔

موصل میں لڑائی سنیچر تک جاری رہی جس میں کم سے کم 59 لوگ ہلاک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شدت پسندوں نے انبار صوبے کے ہر رمادی میں ایک یونیورسٹی کیمپس پر حملہ کر دیا۔

اسی بارے میں