بائبل کی چوری پر روسی جاسوسوں کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جاسوسوں نے انجیل چوری کرنے کے بعد اسے فروخت کرنے سے پہلی اس کی اصلیت کی جانچ کے لیے ایک صحفہ پھاڑ کر خریدار کو دکھایا تھا

روس نے اپنی خفیہ ایجنسی ایف ایس بی سے تعلق رکھنے والے تین ایجنٹوں کو پندرھویں صدی کے بائیبل کے نایاب نسخے کو چوری کر کے بیچنے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔

تفصیلات کے مطابق روسی جاسوس کرنل سرگئی ویڈی شیچیو کو ماسکو یونیورسٹی سےگٹنبرگ بائیبل کی دو جلدیں چوری کر کے اسے سات لاکھ پاؤنڈ میں فروخت کرنے کے جرم میں تین سال کی سزا سنائی گئی۔کرنل سرگئی کے دو ساتھیوں کو بائیبل کے لیے خریدار ڈھونڈنے کےجرم میں کم سزائیں سنائی گئیں۔

واضع رہے کہ بائیبل کی اصل قیمت اس سے کہیں زیادہ تھی اور ماہرین نے اس کی کم سے کم قیمت کا تخمینہ بیس کروڑ ڈالر لگایا ہے۔

تینوں جاسوسوں کو خفیہ ایجنسی ایف ایس بی نے ایک اندرونی آپریشن کے ذریعے اس وقت گرفتار کیا جب وہ بائیبل کو بیچنے کے لیے ایک خریدار سے ملاقات کر رہے تھے۔

یہ بائیبل جرمن پرنٹر جوھینس گٹنبرگ نے سن 1450 میں چھاپی تھی جس کے بعد اسے 2009 میں ماسکو یونیورسٹی کی تجوری سے چوری کر لیاگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گٹنبرگ انجیل اپنے طرز کی پہلی ایسی انجیل تھی جسے چلتے ہوئے پرنٹروں کی مدد سے وسیع پیمانے پر چھاپا گیا

روسی عدالتی ترجمان ارینا زِرنوا نے کہا کہ گٹنبرگ کی بائیبل بہت نایاب ہے اور یہ جاسوس اس فن کے ماہر نہیں تھے۔ ان کو صرف اس کتاب تک رسائی مل گئی جس کے بعد انھوں نے اس سے پیسے بنانے کا منصوبہ بنایا۔

عدالتی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ روسی جاسوسوں نے بائیبل چوری کرنے کے بعد اسے فروخت کرنے سے پہلی اس کی اصلیت کی جانچ کے لیے ایک صفحہ پھاڑ کر خریدار کو دکھایا تھا جس کی وجہ سے اس کی جلد خراب ہوگئی۔ کتاب کی جلد کو اب مرمت کے لیے بھیجا جائےگا۔

پندرھویں صدی کی گٹنبرگ بائیبل اس وجہ سے منفرد ہے کہ یہ اپنے طرز کی پہلی ایسی بائیبل تھی جسے پرنٹروں کی مدد سے وسیع پیمانے پر چھاپا گیا تھا۔

اسی بارے میں