امریکہ میں ووٹرز کو لبھانے کے لیے بندوقوں کے انعام

Image caption ۔۔۔ قرعہ اندازی میں 10 ڈالر ٹکٹ حاصل کر کے شامل ہو سکتے تھے

امریکہ کے کئی حصوں میں برسوں سے انعام میں بندوق جیتنا زندگی کا حصہ رہا ہے لیکن اب منتخب حکام بھی متوقع ووٹرز کو انعام میں بندوق دے رہے ہیں۔

قرعہ اندازی کی ایک تقریب میں ٹکٹیں صندوق میں موجود تھیں اور سامنے میز پر انعامات پڑے تھے۔

اس تقریب میں منفرد بات یہ تھی کہ قرعہ اندازی میں انعام جیتنے والے افراد کو معمول کے مطابق چاکلیٹ، خوراک کے ڈبے نہیں بلکہ بلکل نئی بندوق کی صورت میں انعام ملنا ہے۔

اس انعامی تقریب کا سب سے بڑا انعام بارہ بور کی بندوق ہے اور اس کی آرائش کے لیے سونے کا استعمال کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے چار دیگر آتشی ہتھیار بھی میز پر موجود تھے۔

یہ سٹیو ویگنر کی ریاست انڈیانا کی ہینڈرکس کاؤنٹی میں ری پبلکن پرائمری کی انتخابی مہم کا حصہ تھی۔ بندوق جیتنے والے شخص کے حوالے اس وقت کی جائے گی جب اس کے پِس منظر کے بارے میں مقامی اسلحہ فروش سے تصدیق نہیں ہو جاتی۔

اس حلقے میں اسلحہ رکھنے والے افراد کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور ویگنر کے مطابق ہینڈرکس کاؤنٹی میں 80 سے 90 فیصد لوگوں کے پاس اسلحہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں سکول کے بچوں کے مارے جانے کے واقعے کے بعد اسلحے پر کنٹرول سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑا

ویگنر کے مطابق ملک میں یہ تصور بہت مقبول ہے کہ بندوقیں خطرے میں ہیں اور قرعہ اندازی میں عوامی طریقے سے پانچ بندوقوں انعام میں دینے سے میرے اس وعدے پر کوئی شک نہیں رہتا کہ اسلحہ رکھنے کا حق حاصل ہے اور اسے برداشت کرنے کا بھی۔

انھوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کی جانب آتشی اسلحے پر کنٹرول سخت کرنے کی نئی کوششوں کے نتیجے میں اب پہلے سے زیادہ لوگ اسلحہ رکھنے کے حق میں ہو گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ’شیرف کا دفتر پہلے اسلحے کے اوسطاً ماہانہ 20 لائسنس جاری کرتا تھا لیکن اب یہ تعداد 300 کے قریب پہنچ چکی ہے۔‘

اس قرعہ اندازی میں شریک لوگوں نے پیزا اور چائے کے کپ پر اتفاق کیا کہ اس علاقے میں بندوق لوگوں کی زندگی کا حصہ ہے ۔

ویگنر کے لیے مہم چلانے والے ران سپارکس کے مطابق ہم زرعی فارمز پر پرورش پاتے ہیں۔ کھیل کے طور پر اور کبھی خوراک حاصل کرنے کے لیے شکار کرتے ہیں اور امریکی ثقافت میں بندوق کا ایک بڑا کردار ہے۔

’یہ ملک جنگل بیابان کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور آپ اس میں غیر مسلح جانے کی ہمت نہیں کرتے تھے۔‘

اس سے پہلے امریکی ریاست ساؤتھ کیرولینا میں ری پبلکن جماعت کے پرائمری امیدوار لی برائٹ کے قرعہ اندازی میں بندوق دینے کا فیصلہ بے حد کامیاب رہا ہے۔ پہلے مقابلے کے بعد انھوں نے دو اور مقابلے منعقد کیے اور ہر مقابلے میں پانچ ہزار افراد نے شرکت کی۔

لیکن اب امریکہ میں چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں اور اسلحے کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے تاکہ عوامی مقامات پر فائرنگ کر کے لوگوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات کو روکا جا سکے۔

امریکہ میں گذشتہ کئی برسوں سے عوامی مقامات پر کسی مسلح شخص کی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کے واقعات تسلسل سے سامنے آ رہے ہیں۔

Image caption جولز رالینڈ قرعہ اندازی کا پانچواں انعام دکھا رہی ہیں

انعام میں بندوق دینے کا تصور نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے نیشنل رائفل ایسوسی ایشین کئی سالوں سے قرعہ اندازی کے انعام میں بندوق دے رہی ہے۔

سیاسی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار جان ہوڈک کے مطابق ری پبلکن جماعت کے امیدواروں نے حال ہی میں اس نوعیت کی مہم شروع کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بندوق کا مسئلہ دونوں جانب جوش و ولولہ پیدا کرتا ہے اور یہ ہی وجہ قرعہ اندازی میں بندوق دینے کی بنی۔

’جذبات پر اکسانے کے اس طریقۂ کار کے تحت امیدوار زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور اس وجہ سے یہ انتخابی مہم کا ایک موثر طریقہ بن جاتا ہے۔‘

ایسا ملک جہاں دیہی آبادی زیادہ ہے وہاں صدر براک اوباما کی اسلحہ پر کنٹرول کی قانون سازی کوششوں میں کانگریس رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح صحت اور معیشت کے شعبے میں اصلاحات کو رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

انتخابی مہم میں قرعہ اندازی میں بندوق دینا ایک حربہ نہیں بلکہ غصے اور مایوسی کی علامت ہے جس میں کئی قدامت پسند امریکی اپنے ملک میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں محسوس کرتے ہیں۔

اسی بارے میں