کے سٹریٹ کے گدھ اور وائٹ ہاؤس میں گُھسی چالاک لومڑی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا، اس پر کیسی چاشنی چڑھانی ہے یہ انھی سوٹ بوٹ والوں کام ہے

پتلون کی کریز اتنی تیز کہ ہاتھ لگاؤ تو شاید خون نکل آئے، سكرٹس اتنی چست کہ جیسے پہننے کے بعد سلی گئی ہوں، جوتے ایسے چمکدار کہ چہرہ دیکھ کر شیو کر لو، چلیے یہ قدرے زیادہ ہو گیا، ہاتھوں میں ڈیزائنر گھڑی، ایک سے ایک مہنگی پرفيوم اور آفٹر شیو کی خوشبو، چہرے پر تازگی اور چمک۔

نہ تو میں کسی شادی سے واپس آ رہا ہوں، نہ ہی کسی نائٹ کلب سے۔ دراصل یہ نظارہ اکثر کیپٹل ہل کے اندر سینیٹروں کے کمروں کے باہر دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اثرو رسوخ اور پالیسیاں دونوں فروخت کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں انھیں لابسٹ کہا جاتا ہے، عام زبان میں دلال یا ثالث۔

اربوں ڈالر کا یہ بزنس ایک طرح سے واشنگٹن کو چلانےوالا انجن ہے۔ بھارت ہو، پاکستان ہو، سعودی عرب ہو، اسرائيل ہو تمام کے تمام امریکی بالائی میں اپنے اپنے حصوں کے ان لابسٹوں کا سہارا لیتے ہیں۔

آپ بم یا بندوق کے بزنس میں ہوں، دوا دارو فروخت کرتے ہوں یا پھر ہالی وڈ کے خواب دیکھتے ہوں تمام قسم کے معاملات کے تعلق سے بننے والے قوانین اور پالیسیوں کی چابیاں ایک طرح سے ان ہی لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں۔ امریکہ کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا، اس پر کیسی چاشنی چڑھانی ہے یہ انھی سوٹ بوٹ والوں کام ہے۔

آپ نے پنٹاگون میں کام کیا ہو، وائٹ ہاؤس میں مشورہ دیتے ہوں، کانگریس کے رکن رہ چکے ہوں یا کسی ملک کے سفیر رہ چکے ہوں، ان دفاتر میں آپ کے لیے ہمیشہ جگہ ہوگی اور حکومت میں رہ کر آپ نے جتنا کمایا اس سے کئی گنا زیادہ کمائیں گے اور امریکی قانون کے تحت یہ کمائی مکمل طور پر جائزبھی ہوگی۔

میرے دفتر سے صرف ایک گلی چھوڑ کر ’کے سٹریٹ‘ ہے جہاں ان کے شاندار دفتر بنے ہوئے ہیں۔ ویسے لابسٹ کیا ہوتے ہیں اس کی معلومات فراہم کیے بغیرچلیے اصل مسئلہ پر آتا ہوں۔

احوال واقعی یہ ہے کہ گذشتہ دو تین دنوں سے ’کے سٹریٹ‘ کی ایک عمارت کے ٹھیک اوپر دو گِدھوں نے ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ جیسے ہی خبر پھیلی تو کسی نے لکھا ’اس میں نئی بات کیا ہے، گدھ تو وہاں پہلے سے ہی تھے۔ تو اچھا اب پروں والے گدھ آ گئے ہیں؟‘

کسی دوسرے نے ٹوئٹ کیا: ’جہاں بھی کچھ مرتا ہوا یا سڑتا ہوا دیکھتے ہیں یہ پرندے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔‘

تیسرے نے لکھا: ’یہ بیچارے بھوکے مر جائیں گے کیونکہ یہاں مردے تو نہیں ہیں جن کا گوشت یہ کھا سکتے ہیں، صرف روحیں مری ہوئی ہیں۔‘

آپ سوچ سکتے ہیں بیچارے ’کے سٹریٹ‘ پر کام کرنے والوں کا حال! کہاں تو یہ لوگ فوجی ڈکٹیٹر ہوں یا ڈاکو کسی کی بھی امیج چمکانے کا دعوی کرتے ہیں اور یہاں ان کی اپنی شبیہ اس قدر خراب ہے۔

کوئی بڑی بات نہیں کہ کوئی یہ بھی مہم چلا دے کہ ’کے سٹریٹ‘ کا نام تبدیل کرکے گدھ سٹریٹ کر دیا جائے۔

ویسے گدھ سے تو نہیں لیکن ایک جانور سے ان دنوں صدر اوباما بھی پریشان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اسامہ بن لادن اور صدام حسین کو ہزاروں میل دور جا کر ڈھونڈ نكالنےوالي امریکی مشینری اس چھوٹی سی موبائل لومڑی کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے

گذشتہ برس جب کانگریس کی طرف سے بجٹ پاس نہیں ہوا اور واشنگٹن کے سرکاری ملازمین کو بغیر تنخواہ گھر بیٹھنے کے لیے کہہ دیا گيا تو وائٹ ہاؤس کے ملازمین کی تعداد میں بھی کمی ہو گئی تھی۔

انھیں دنوں موقع دیکھ کر ایک لومڑی وائٹ ہاؤس کے اندر داخل ہوگئي اور جیسا کہ کسی انسان کے ساتھ ہوتا ہے، ایک بار وہ وائٹ ہاؤس میں گھس آئے تو پھر نکلنے کا نام نہیں لیتا ہے۔

امریکی صدر پر تو قانونی پابندی ہے کہ آٹھ سال کے بعد ہر حال میں انھیں وائٹ ہاؤس خالی کرنا ہے۔ اس بےشرم پر تو کوئی قانون بھی نافذ نہیں ہوتا۔

گذشتہ آٹھ مہینوں میں کئی بار اس کی تلاش کی کوششیں ہوئیں کہ اسے پکڑا جا سکے لیکن اسامہ بن لادن اور صدام حسین کو ہزاروں میل دور جا کر ڈھونڈ نكالنےوالي امریکی مشینری اس چھوٹی سی موبائل لومڑی کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے۔

حال ہی میں اوباما اپنے اوول آفس میں کھڑے ہو کر باہر کے نظارے سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک سے یہ لومڑی اپنی جھلک دکھا کر پھر غائب ہو گئی۔

اوباما کا گھبرانا جائز ہے۔ وائٹ ہاؤس کے عقبی صحن میں مشیل اوباما نے سبزیاں لگا رکھی ہیں کہیں لومڑی نے انھیں نقصان پہنچا دیا تو مشیل کا غصہ کہاں اترے گا یہ تو پتہ ہی ہے۔

وہیں رپبلكن اراکین اب تک صرف اوباما کی خارجہ پالیسی کو کمزور بتا رہے ہیں۔ لومڑی پر نظر جائے گي تو کہیں گے ہوم لینڈ سکيورٹی پالیسی بھی خطرے میں ہے۔

اسی بارے میں