برگڈال کی یونٹ ایک تباہ حال یونٹ تھی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برگڈال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خود فوجی چوکی چھوڑ کر چلے گئے تھے

امریکی فوج کے حکام چند سال بعد کہیں گے کہ یہ تو ایک تباہ حال پلاٹون تھی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں طالبان کی قید سے رہائی پانے والے امریکی فوجی بو برگڈال کے بارے میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا کہ انتشار کے شکار مشرقی افغانستان میں واقع ایک دور دراز چھوٹی سی فوجی چوکی میں شدید جنگ کے دنوں میں اس پلاٹون کے سپاہی ٹی شرٹس پر سروں پر ’بندانا‘ باندھ کر پھرتے تھے۔

ایک فوجی جائزے کے مطابق اس فوجی چوکی کی حفاظت کے اقدامات بھی ناقص تھے۔

اگر30 جون سنہ 2009 میں سارجنٹ بو برگڈال کے غائب ہونے کا واقع نہ ہوتا تو ایسی بہت سی دیگر وجوہات ہیں جن کی بنا پر501 رجمنٹ کی فرسٹ بٹالین کی سیکنڈ پلاٹون بلیک فٹ کمپنی افغانستان میں برسرپیکار امریکی فوج کی دیگر پلاٹونوں میں یاد رکھی جائے گی۔

بو برگڈال کے غائب ہونے اور خاص طور پر گزشتہ ہفتے قیدیوں کے متنازع تبادلے میں ان کی رہائی کے بعد ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ فوجی بننے کے قابل نہیں تھے اور ایک غلط پلاٹون میں تھے جو افغانستان میں اپنے ابتدائی مہینوں ہی میں پلاٹون چھوڑ گئے جیسا کہ ان کے ساتھی فوجیوں نے بعد میں بتایا۔

بو برگڈال کے واقعے کی رپورٹ کا علم رکھنے والے دو فوجیوں نے بتایا کہ اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس پلاٹون میں نظم کا فقدان تھا اور اس کے حفاظتی اقدامات بھی ناقص تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Al Emara
Image caption برگڈال کو امریکی فوج کے حوالے کرنے کی ویڈیو طالبان نے جاری کی تھی

لیکن یہ مسائل کئی لحاظ سے جنگ کے اس دور میں افغانستان بھر کے لیے امریکی وزارتِ دفاع پینٹاگون کی پوری حکمت عملی کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ اس پلاٹون میں سپاہیوں کی تعداد کم تھی اور اسے ایک دور دارز علاقے میں انتہائی خطرناک شورش کو کچلنے کے لیے بھیج دیا گیا جس نے علاقے کے بہت سے دیہات کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔

دریاؤں اور برساتی نالوں جن کی خشک گزرگاہوں کو ان دور دراز علاقوں میں راستوں کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اکثر بارودی سرنگوں سے بھری ہوتی تھیں۔ ان گزر گاہوں کے ذریعے کمک حاصل کرنا اور فوجی چوکی کو لوٹنا ایک عصاب شکن سفر ثابت ہوتا تھا۔

سنہ دو ہزار نو میں جس برس سیکنڈ پلاٹون افغانستان پہنچی اُس سال افغانستان میں امریکی فوج کا جانی نقصان گزشتہ سال کےمقابلے میں دو گنا ہو گیا تھا۔

اسی سال کے آخر میں صدر اوباما نے فوجی حکمت عملی یکسر تبدیل کر کے فوج کی تعداد میں زبردست اضافہ کر دیا۔

اس پلاٹون کے کئی سپاہیوں کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں صرف اتنا حصہ ہی ان کے کنٹرول میں تھا جو ان کی فوجی چوکی سے نظر آتا تھا۔ ان کے انتہائی محفوظ بکتر بند ٹرک جنہیں (ایم آر اے پیز) بھی کہا جاتا ہے انھیں زمین میں دبی بارودی سرنگوں سے محفوظ رکھتے تھے لیکن انھیں اس بات کا بخوبی علم تھا کہ یہ بارودی سرنگیں کتنی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برگڈال کے بارے میں طالبان نے کہا ہے کہ انھیں بہت آرام سے رکھا گیا

فوجی چوکی کی حفاظتی باڑ سے باہر طویل گشت کے دوران اکثر فوجی اس بات پر شرطیں لگاتے تھے کہ کتنی دیر بعد باردوی سرنگ پھٹے گی۔

پلاٹون کے طبی عملے کے ایک رکن جاش کورنیلیشن نے بتایا کہ : ’ہم راستے میں شرطیں لگاتے تھے کہ اس راستے پر کتنی بارودی سرنگیں پھٹیں گی اور کون اس کا نشانہ بنے گا۔‘

افغانستان میں جنگ کے بارے میں برگڈال کے خیالات کے بارے میں ان کے ساتھیوں نے متضاد باتیں بتائی ہیں۔

کچھ لوگوں کے مطابق وہ ایک تنہائی پسند اور الگ تھلگ رہنے والے شخص تھے جو اکثر کتابیں پڑھتے اور پائپ پیتے رہتے تھے۔ ان کے کچھ ساتھیوں کا کہنا تھا کہ وہ الگ تھلگ نہیں رہتے تھے اور کئی دوسرے فوجیوں کی طرح پکتیا میں فوجی مشن کے بارے میں ابہام اور مایوسی کا شکار رہتے تھے۔ ان کے چھ ساتھیوں نے بتایا کہ وہ جنگ کے بارے میں خاصے پرجوش دکھائی دیتے تھے خاص طور پر اس وقت جب ان کی پلاٹون کسی حملہ کی زد میں ہوتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برگڈال کی یونٹ کو کئی وجوہات کی بنا پر یاد رکھا جائے گا

پاکستانی سرحد سے پچاس میل کے فاصلے پر یحییٰ خیل کے گاؤں میں متی ملک کی اس فوجی چوکی پر تعیناتی کے دوران برگڈال کے ساتھ رہنے والے جیرالڈ سٹن کا کہنا تھا کہ برگڈال اکثر اس بات کی شکایت کرتے تھے کہ وہ حملہ آوور کیوں نہیں ہو سکتے۔

سٹن کے مطابق برگڈال کے ساتھیوں کے خیال میں وہ ایک پریشان اور مایوس شخص تھے جبکہ وہ اس رائے سے متفق نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں برگڈال ایک اچھے فوجی تھے اور ان سے جو کچھ کہا جاتا وہ کرتے تھے۔

برگڈال کی گمشدگی کے وقت طالبان کے حملے بڑھ رہے تھے اور امریکی حکمت عمل بدل رہی تھی۔ اس وقت افغانستان جیسے وسیع و عریض اور سنگلاخ پہاڑی سلسلوں کے ملک میں امریکی فوجیوں کی تعداد ساٹھ ہزار کے قریب تھی۔ بلیک فٹ کمپنی کی یونٹس مشرقی افغانستان کے دشوار ترین علاقے کے طول و عرض میں تعینات تھیں۔ سنہ دو ہزار نو کے آخری میں صدر اوباما نے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے فوج میں اضافے کا اعلان کیا اور سنہ دو ہزار گیارہ کے آخری تک ان کی تعداد ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔

سنہ دو ہزار میں برگڈال کی یونٹ کو ایک بڑی لڑائی لڑنی پڑی اور وہ اومنا کے گاؤں کے قریب کئی دنوں تک طالبان کے حملے میں گھری رہی۔

گاؤں جانے والے واحد راستے پر طالبان نے ایک پیچیدہ فوجی کارروائی کی اور ان کی گاڑیوں کے قافلے کے درمیان ایک بارودی سرنگ سے دھماکہ کرنے کے بعد راکٹوں سے حملے کر دیا۔ آدھے گھنٹے تک بکتر بند گاڑیوں کے اوپر نصب مشینوں گنوں سے جوابی فائرنگ کی جاتی رہی اور باقی ساری پلاٹون بکتر بند گاڑیوں میں بیٹھی رہی۔

کورنیلیشن نے بتایا کہ اس لڑائی میں انھوں نے تین حملہ آووروں کو مشین گن کے فائر کی زد میں آتے دیکھا۔ ’اس فائر میں انسان کے پڑچے اڑ جاتے ہیں اور یہ ایک ایسا اندوہناک منظر تھا جو آپ ساری زندگی بھول نہیں پاتے۔‘

ایک سال اپنی تعیناتی کے دوران اس پلاٹون کو کوئی جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑتا۔ لیکن ان کی بٹالین کے کئی لوگ ہلاک ہوئے اور بہت سے فوجیوں کا کہنا ہے کہ برگڈال کی تلاش میں بھی کئی فوجی ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں