’یقین نہیں آتا کہ یہ ایک برطانوی سکول ہے‘

Image caption اس رپورٹ کے مطابق ایشائی اکثریتی علاقوں کے پانچ سکول بچوں کو مذہب کے تنگ نظر عقائد کے نفاذ اور شدت پسندی سے دور رکھنے میں ناکام رہے

برمنگھم میں ویسے تو چپلی کباب، پائے، نہاری پشاور اور کراچی سے بھی تازہ مل جاتی ہے لیکن عالم راک میں تازہ نسوار بنانے کی دوکان دیکھ کر حیرت ہوئی۔

35 ہزار برطانوی پاکستانیوں کے اس شہر میں میرپور اور چراٹ کے خاصے لوگ آباد ہیں۔ یہاں ایک طرف آپ کو حجرے اور بیٹھکیں ملیں گی تو دوسری طرف دکانوں میں باٹا کے چپل، مٹی کے کٹورے اور غسل کے لیے لوٹے بھی باآسانی دستیاب ہیں۔

مجھے یہ سب دیکھنے کو یوں ملا کہ آفسٹیڈ کی ایک رپورٹ کے بارے میں مزید حقائق جاننے کے لیے میں برمنگھم پہنچا تھا۔ اس رپورٹ کے مطابق وہاں کے کچھ سکولوں میں سخت گیر موقف رکھنے والے مسلمانوں نے ایک طرح سے ’قبضہ‘ کر لیا ہے۔

برمنگھم کے 21 سکولوں میں بچوں کو شدت پسندی سے محفوظ رکھنے میں ناکامی کی تحقیقات کی رپورٹ پر ہر ایک کی توجہ مرکوز تھی مگر سوال یہ تھا کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔

اسی دوران برمنگھم سے رکنِ دارالعوام خالد محمود پر نظر پڑی جو کسی انٹرویو کے بعد واپس جا رہے تھے۔

ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ یہ معاملہ سنگین ہے اور آج سے نہیں بلکہ گذشتہ ایک دہائی سے کچھ شدت پسند عناصر برطانوی سکولوں کی انتظامیہ پر قبضہ کر کے اپنے ایجنڈے کا نہ صرف نفاذ چاہتے ہیں بلکہ انھوں نے ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت چار پانچ سکولوں پر قبضہ کر بھی لیا تھا۔

آفسٹیڈ کی رپورٹ سے یہ تاثر ملا جو بعض مبصرین نے زور دے کر کہا بھی کہ اگر حالات اتنے ہی خراب ہیں تو شدت پسندوں کی آئندہ نسلیں کہیں اور سے نہیں بلکہ اسی سرزمین سے وجود میں آئیں گی۔

اس رپورٹ کے مطابق ایشائی اکثریتی علاقوں کے پانچ سکول بچوں کو مذہب کے تنگ نظر عقائد کے نفاذ اور شدت پسندی سے دور رکھنے میں ناکام رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان سکولوں میں موجود جو اساتذہ تنگ نظر مذہبی نظریات سے متفق نہیں تھے انھیں سرے سے نوکری سے ہی نکال دیا گیا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت صرف انھی لوگوں کو سکول انتظامیہ میں شامل کیا گیا جو ایک مخصوص تنگ نظر مذہبی عقائد اور بعض مبصرین کے مطابق ’سلفی اسلام‘ کے عقائد کے پیروکار ہیں۔

Image caption آفسٹیڈ کی رپورٹ کے مطابق وہاں کے کچھ سکولوں میں سخت گیر موقف رکھنے والے مسلمانوں نے ایک طرح سے ’قبضہ‘ کر لیا ہے

ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین نے جب برمنگھم سٹی کونسل میں سینکڑوں کی تعداد میں شکایات درج کرنا شروع کیں تو رپورٹ کے مطابق ان پر ’کوئی توجہ نہیں دی گئی۔‘

اس صورتحال میں ایک خط اہم ہے جس کے نتیجے میں ’ٹروجن ہارس‘ نامی یہ سازش منظر عام پر آئی۔

برطانوی وزرائے تعلیم اور داخلہ دونوں اس معاملے کو ایک دوسرے کی ناکامی قرار دیتے رہے اور یہ اختلافات اتنے بڑھ گئے کہ وزیرتعلیم مائیکل گوو نے برمنگھم کے سکولوں کو شدت پسندی سے بچانے کی ساری ذمہ داری وزیرداخلہ ٹیریسا مے پر ڈال دی۔

جواب میں وزارتِ داخلہ نے وزیرتعلیم کے خلاف اپنی ویب سائٹ پر ایک کھلا خط شائع کیا۔

دونوں جانب سے الزامات اور جوابات کے نتیجے میں شدت پسندی کے تدارک میں ناکامی کا تعین تو نہیں ہوا مگر وزیراعظم کیمرون کو بلاخر صورتحال کو سنبھالنا پڑا۔ تعلیم کے وزیر کو معافی بھی مانگنا پڑی۔

بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ انھوں نے یہ احساس بھی دلایا کہ برطانوی سکولوں میں شدت پسندی یا بنیاد پرستی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔

پارک ویو سکول کے باہر دو پاکستانی نژاد برطانوی والدین سے ملاقات ہوئی مگر وہ آن ریکارڈ بات کرنے کو اس لیے تیار نہیں تھے کیونکہ ان کے بقول ’یہ معاملہ حساس‘ ہے اور علاقے میں انھیں ٹی وی پر آنے کے نتیجے میں ’بری نظر سے دیکھے‘ جانے کا خوف تھا۔

ایک پریشان والد کا کہنا تھا کہ ’ان کے بیٹے نے گھر سے نہ صرف تصاویر کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اتار دیا ہے بلکہ وہ اپنے دادا دادی کی قبر پر جانے کو بھی غیر شرعی سمجھنے لگ گیا ہے۔‘

اس والد نے مزید کہا ’یقین نہیں آتا کہ یہ ایک برطانوی سکول ہے۔‘

اس سکول میں پڑھنے والے ایک طالب علم کی والدہ صرف میر پور کی زبان میں ہی بات کر سکتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کی تربیت سے بالکل مطمئن ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کا بیٹا ’بڑا ہو کر سب سے پہلے ایک اچھا مسلمان بنے۔‘

اسی بارے میں