ویت نامی جہازوں نے 1400 بار ٹکریں ماریں: چین

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ویت نامی ساحل سے لی گئی تصویر جس میں چینی جہاز ویت نامی جہاز کو متنازع سمندری حدود موجود ہونے پر متنبیہ کر رہا ہے

چین نے الزام لگایا ہے کہ جنوبی بحرِ چین میں ایک ڈرلنگ رگ کے قریب ویت نامی جہازوں نے اس کے جہازوں کو 1400 بار ٹکریں ماریں۔

بحری ڈرلنگ رگ ایک ایسا بڑا بحری جہاز ہوتا ہے جو سمندر میں معدنیات یا تیل وغیرہ کی تلاش کا کام کرتا ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے جہاز ٹکرانے کی ان کارروائیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ہنوئی سے کہا ہے کہ یہ ’اشتعال انگیزیاں‘ بند کی جائیں۔

یہ بحری ڈرلنگ رگ ویت نام میں چینیوں کے خلاف بھڑکنے والے فسادات کے بعد دو مئی کو اس بحری علاقے میں لائی گئی ہے۔ فسادات میں اب تک چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہنوئی کا کہنا ہے کہ رِگ اُس کی سمندری حدود میں ہے اور چین اُس کے علاقے میں سمندری تلاش کا کام بند کرے۔ بحرِ جنوبی چین کے اس علاقے پر کئی ملک دعویدار ہیں۔

بیجنگ بیسویں صدی کے ایک نقشے کی بنیاد پر اس پورے علاقے کو اپنی حدود قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ دعویٰ ایک ہزار سالہ تاریخ رکھتا ہے۔

ڈرلنگ رگ اس وقت پاراسل جزائر کے قریب ہے جن پر چین اور ویت نام دونوں دعویدار ہیں۔

ہنوئی کا کہنا ہے کہ ڈرلنگ رگ اس وقت اُس کے ایکسکلیوسیو اکنامک زون (ای ای زیڈ) میں ہے۔ عام طور پر کسی بھی ملک کی سرحد سے ملنے والا دو سو سمندری میل کا علاقہ اُس ملک کی سمندری حدود تصور کیا جاتا ہے۔

تاہم چینی وزارتِ خارجہ نے اپنی ڈرلنگ رگ کی موجودگی کا طویل دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ڈرلنگ آپریشن پوری طرح اُس کی ’خود مختارانہ حدود‘ میں کام کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ APTN
Image caption متنازع سمندری حدود میں چینی کوسٹ گارڈ کا ایک اور جہاز جس کی تصویر ویت نامی جہاز نے بنائی

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی چین کے جزائر ژونگجیان اور جزائر ژیشا (پاراسل جزائر) سے 17 بحری میل کے فاصلے پر کی جا رہی ہے اور یہ علاقہ ویت نام کے ساحل سے 133 تا 156 بحری میل کے فاصلے پر ہے۔

ویت نام جنگ کے دوران چین جنوبی ویت نام کی حمایت کرتا رہا ہے۔ 1974 میں چین اور ویت نام کے درمیان پاراسل جزائر پر ہونے والی جنگ میں چین نے ویت نام کے ان جزائر پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد ویت نام نے روس سے قریبی تعلقات قائم کر لیے تھے۔

اس کے علاوہ چین اور ویت نام کے درمیان 1979 اور 1988 میں بھی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں۔

چینی بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سات جون کو شام پانچ بجے تک ویتنام کے 63 جہازوں نے چینی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چینی جہازوں کو 1416 بار ٹکریں ماریں۔‘

چین کا کہنا ہے کہ مذکورہ جزائر پر چین کا پرچم 1911 سے لہرا رہا ہے اور خود ویت نام کی 1974 کی ایک نصابی کتاب میں پاراسل جزائر کو چینی بتایا گیا ہے۔

اسی بارے میں