بوکو حرام نے مزید 20 لڑکیاں اغوا کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لڑکیوں کے اغوا کے بعد حکومت پر بوکو حرام سے نمٹنے کے لیے اندرونی و بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے

نائجیریا میں عینی شاہدین کے مطابق بوکو حرام کے مشتبہ شدت پسندوں نے مزید 20 لڑکیوں کو اس علاقے سے اغوا کیا ہے جہاں سے وہ پہلے تقربیاً 200 لڑکیوں کو مغوی بنا چکے ہیں۔

بورنو ریاست میں عینی شاہدین کے مطابق مشتبہ شدت پسند لڑکیوں کو بندوق کی نوق پرگاڑیوں میں لاد کر ایک نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

فوج نے ابھی تک اغوا کے اس تازہ واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جو بورنو ریاست میں جعرات کو گارکینی فیولانی کے علاقے میں پیش آیا۔

نائجیریا کی فوج کو ملک کے شمال میں شدت پسندوں کے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر بڑھتے ہوئے تنقید کا سامنا ہے۔

شدت پسند کارروائیوں کی روک تھام کے لیے بنائے گئے مقامی گروپ کے ایک رکن نے بتایا کہ لڑکیوں کو اغوا کرنے کے ساتھ شدت پسند ان تین مرودوں کو بھی اغوا کرکے ساتھ لے گئے جنھوں نے ان کو روکنے کی کوشش کی۔

الحاجی تار نے کہا کہ ’جب ہمیں اس واقعے کے تین گھنٹے بعد خبر ملی تو ہم ان کے پیچھے جانے کی کوشش کی لیکن ہماری گاڑیاں زیادہ دور نہیں جا سکیں اور ہمیں خبر بھی دیر سےملی تھی۔‘

حالیہ واقعے سے پہلے اپریل میں بوکو حرام کے مسلح ارکان نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا تھا جو تاحال ان کے پاس مغوی ہیں۔

بوکو حرام ان لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اپنی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

لڑکیوں کے اغوا کے بعد حکومت پر بوکو حرام سے نمٹنے کے لیے اندرونی و بیرونی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

پیر کو فوج نے حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں 50 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

خیال رہے کہ بوکو حرام نے نائجیریا میں ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے سنہ 2009 سے پرتشدد کارروائیاں شروع کی ہیں جن میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں