جنسی تشدد کے واقعات روکنے کے لیے کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اینجلینا جولی نے جنسی تشدد کے خلاف مہم میں مرکزی کردار ادا کیا ہے

برطانوی دارالحکومت لندن میں جنگ کے دوران جنسی تشدد کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے چار روزہ کانفرنس شروع ہو گئی ہے۔

منگل کو کانفرنس کے پہلے روز ہالی وڈ کی اداکارہ اور اقوام متحدہ کی خصوصی سفیر اینجلینا جولی نے جنسی زیادتی پر خاموشی اختیار نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کے ذریعے لازمی یہ پیغام دینا چاہیے کہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے میں کوئی بدنامی نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ کانفرنس کو بوسنیا کی اس خاتون کے نام کرنا چاہتی ہیں۔جن کا انھوں نے حال ہی میں انٹرویو کیا ہے اور اس نے جنسی زیادتی کا شکار ہونے پر اتنی تضحیک محسوس کی کہ اپنے بیٹے کو بھی اس واقعے کے بارے میں نہیں بتایا۔

اینجلینا جولی نے کہا کہ یہ دن اس خاتون کے نام جو یہ سمجھتی تھی کہ اس جرم کی کوئی سزا نہیں ہے اور جس شخص نے ان سے جنسی زیادتی کی وہ گلیوں میں آزاد گھوم رہا ہے اور محسوس کرتی تھیں کہ دنیا نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ہمیں سزا سے استثنیٰ کی روایت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے جرائم کو معاف کرنے کی بجائے انصاف کا اصول اپنانا چاہیے۔‘

اینجلینا جولی اور برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ اس کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں۔

تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے بارے میں آگاہی کی دو برس کی مہم کے بعد اس مسئلے پر اب تک کی سب سے بڑی کانفرنس کا انعقاد ممکن ہو سکا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کے مطابق جدید دور میں ریپ اجتماعی جرم ہے۔اس کانفرنس کا مقصد ایک بین الاقوامی پروٹوکول جاری کرنا ہے جس کے تحت تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے واقعات کا ریکارڈ مرتب کرنا اور ان واقعات کی تحقیقات کرنا ہے۔

اس کے علاوہ اس کے ایجنڈے میں ایسے واقعات کی روک تھام اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ملکی سطح پر موثر قانون سازی کرنا شامل ہے۔

ممالک پر زور دیا جائے گا کہ وہ جنسی تشدد کے واقعات روکنے کے لیے اپنے فوجیوں اور امن و امان بحال کرنے والے اہلکاروں کی تربیت کریں۔

کانفرنس میں جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے مالی وسائل کو بڑھانا اور تنازع کے دوران ریپ پر مائل ہونے کے رویے کو تبدیل کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کانفرنس کے ایجنڈے کے مطابق جنسی تشدد کی متاثرین کی مدد کے لیے زیادہ مالی وسائل اکٹھے کیے جائیں گے

بی بی سی کے نامہ نگار پال ایڈم کے مطابق کانفرنس کے منتظمین چاہتے ہیں کہ اس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو جگایا جائے۔

اس کانفرنس میں شامل ایک سپیکر انجیلا آتن کو 14 سال کی عمر میں یوگینڈا میں باغیوں کی تنظیم ایل آر اے نے اغوا کر لیا تھا۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہیں کہ ’مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے قصوروار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے، یہ ہمارے زحم مندمل کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ جب آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آزادی سے گھوم رہے ہیں تو بات تکلیف دہ ہوتی ہے۔ ‘

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں بوسنیا، ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو اور صومالیہ بھی شرکت کر رہے ہیں اور ان ممالک میں بڑے پیمانے پر جنسی تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایک اندازے کے مطابق بوسنیا میں 20 سال قبل 50 ہزار خواتین کا ریپ کیا گیا اور بظاہر اب تک اس میں کسی کو انصاف نہیں ملا۔

ولیم ہیگ کے مطابق 20ویں اور 21ویں صدی میں جنسی تشدد کو منظم انداز میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب مقصد ہے کہ اس مسئلے پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں اور اس میں متاثرین کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جا سکے۔

مسلح تنازعات کے دوران جنسی تشدد کے واقعات پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ زینب بنگورا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب بھی بہت سارے ممالک میں جنسی تشدد جرم نہیں ہے۔ سب سے بڑا چیلنج انکار اور خاموشی اختیار کرنے کا کلچر ہے۔‘

برطانوی وزیر خارجہ جمعرات کو نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے بارے میں ایک سکیورٹی اجلاس کی میزبانی کریں گے جس میں نائجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں