رہا ہونے والے امریکی فوجی وطن واپس روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ میں سارجنٹ برگڈال کے حوالے سے لوگوں کی رائے منقسم ہے کہ آیا انھیں ہیرو سمجھا جائے یا ایک ایسا سپاہی جس نے اپنی چوکی سے بھاگ کر اپنے ساتھیوں کی جان کو خطرے میں ڈالا تھا

حکام کا کہنا ہے کہ پانچ سال طالبان کی قید میں رہنے والے امریکی فوجی سارجنٹ بو برگڈال امریکہ واپس روانہ ہو گئے ہیں۔

28 سالہ برگڈال جرمنی میں امریکی فوج کے میڈیکل سنٹر سے ٹیکسس کے لیے روانہ ہوئے ہیں اور فوج کے مطابق ان کا آئندہ مشن دوبارہ معاشرے کا حصہ بننا ہوگا۔

حکام اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ برگڈال اپنے خاندان والوں سے ٹیکسس ہی میں ملاقات کریں گے۔

سارجنٹ برگڈال کو 31 مئی کو گوانتانامو بے میں قید پانچ طالبان کمانڈروں کی رہائی کے بدلے میں چھوڑا گیا تھا۔ امریکہ میں اس تبادلے پر رپبلکن پارٹی نے شدید تنقید کی ہے۔

امریکہ میں سارجنٹ برگڈال کے حوالے سے لوگوں کی رائے منقسم ہے کہ آیا انھیں ہیرو سمجھا جائے یا ایک ایسا سپاہی جس نے اپنی چوکی سے بھاگ کر اپنے ہی ساتھیوں کی جان کو خطرے میں ڈالا تھا۔ اسی وجہ سے ان کے آبائی قصبے میں جمعرات کو جو استقبالیہ ہونا تھا اسے بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے ایک بیان میں بتایا کہ جمعرات کے روز بو برگڈال رامسٹین ایئر بیس سے ایک فوجی طیارے میں سان اینٹونیو کے لیے روانہ ہوئے ہیں۔

’ہماری پہلی ترجیح یہ ہے کہ سارجنٹ برگڈال کو ضروری مدد ملتی رہے۔‘

رہائی کے بعد سے سارجنٹ برگڈال جرمنی میں ایک امریکی فوجی ہسپتال میں زیرِ علاج رہے ہیں۔

قیدیوں کے اس تبادلے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ رہا کیے گیے طالبان کمانڈر انتہائی خطرناک تھے اور انھیں اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ اوباما انتظامیہ نے کانگریس کو اس بارے میں اطلاع نہیں دی تھی۔

ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ آخر وہ کیا حالات تھے جن میں سارجنٹ برگڈال سنہ 2009 میں طالبان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔

برگڈال کے سابق فوجی ساتھیوں میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں طالبان نے انھیں اس وقت پکڑ لیا جب وہ اپنے یونٹ سے بھاگ گئے تھے۔

گوانتانامو سے پانچ طالبان قیدیوں کے تبادلے میں برگڈال کی رہائی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ جب برگڈال اپنے یونٹ سے لاپتہ ہوئے تو ان کی ابتدائی تلاش میں چھ دیگر امریکی فوجیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گوانتانامو سے قیدیوں کے تبادلے سے کم از 30 دن پہلے امریکی کانگریس کو اس بارے میں بتایا جانا چاہیے تھا۔

دوسری جانب صدر اوباما کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا فیصلہ درست تھا۔ گذشتہ ہفتے بیلیجیئم میں جی سیون ممالک کے اجلاس کے موقعے پر صدر اوباما نے کہا تھا کہ سارجنٹ برگڈال کی گرتی ہوئی صحت ’بہت فکرمندی‘ کی بات تھی اور ’ہمیں انھیں چھڑانے کا ایک موقع نظر آیا اور ہم نے اس سے فائدہ اٹھا لیا۔‘

روزنامہ نیویارک ٹائمز کے مطابق اپنی رہائی کے بعد سارجنٹ برگڈال نے اخبار کو بتایا ہے کہ قید کے دوران طالبان نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

اخبار کے مطابق سارجنٹ برگڈال نے بتایا کہ قید سے فرار ہونے کی کوشش کے جرم میں طالبان انھیں کئی کئی ہفتے مکمل تاریکی میں لوہے کے پنجرے میں بند کر دیتے تھے۔

اخبار نے جرمنی میں برگڈال کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگرچہ وہ جسمانی طور سفر کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ان کی ذہنی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے جذباتی لمحات کا سامنا کر سکیں۔

اسی بارے میں