سعودی عرب: ’ایک تہائی کمائی فون کھا جاتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ’انٹرنیٹ کی بھُوکی‘ قوم ہے کیوں کہ لوگوں کو معاشرے میں وہ آزادیاں حاصل نہیں جو انٹرنیٹ پر ہیں

سعودی عرب میں لوگ ٹیلی فون پر اس قدر زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کا ایک تہائی فون اور انٹرنیٹ کے بل کی مد میں چلا جاتا ہے۔

’عرب نیوز‘ نامی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ملک میں صارفین کے حقوق کے ادارے ’کنسیومر پروٹیکشن ایسوی ایشن‘ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عوام اوسطاً اپنی ذاتی کمائی کا 30 فیصد ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے پر خرچ دیتے ہیں۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کی آدھی سے زیادہ تنخواہ، بلکہ کچھ لوگوں کی کمائی کا 70 فیصد ٹیلیفون کے بل میں نکل جاتا ہے۔

گُوگل کے ایک جائزے کے مطابق سعودی عرب کی آبادی کے تقریباً 75 فیصد کے پاس سمارٹ فونز موجود ہیں۔

حقوقِ صارفین کے تحفظ کی ایسوسی ایشن کے سربراہ ناصر التوائم کا خیال ہے کہ ٹیلی فون پر اتنے زیادہ اخراجات کی وجہ محض یہ نہیں کہ سعودی لوگ فون پر بہت باتیں کرتے ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں فون کی سہولت بہت زیادہ مہنگی ہے۔

سعودی عرب میں زیادہ تر کمپنیاں ایک منٹ کی کال کے لیے 0.35 ریال ( چھ برطانوی پینس یا دس پاکستانی روپے) چارج کرتی ہیں۔

اسی طرح سعودی عرب میں عام لوگ نہیں جانتے کہ چلتے پھرتے انٹرنیٹ کی سہولت (رومنگ) استعمال کرنے کے لیے ان سے کتنے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔

سعودی عرب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ’انٹرنیٹ کی بھُوکی‘ قوم ہے کیونکہ اس ملک میں لوگوں کو جو آزادی معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر حاصل ہے وہ عام زندگی میں نہیں۔

اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2013 میں سعودی عرب کے ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین نے 15 کروڑ ٹویٹس کیں۔

اسی بارے میں