عالمی کپ کے آغاز سے قبل ساؤ پاؤلو میں مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں کورنتھیئنز ایرینا جانے والے راستے پر ایک میٹرو سٹیشن کے قریب ہوئیں

برازیل میں فٹ بال کے عالمی کپ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ساؤ پاؤلو میں پولیس نے ان مقابلوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی ہے۔

ساؤ پاؤلو ورلڈ کپ پہلے میچ کی میزبانی کر رہا ہے اور یہیں ان مقابلوں کی افتتاحی تقریب بھی منعقد ہونا ہے۔

برازیلی پولیس اور مظاہرین کی جھڑپوں کی کوریج کرنے والی صحافی اس واقعے میں زخمی ہوئی ہیں جبکہ پولیس نے ایک شخص کو گرفتار بھی کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ ایرینا ڈی ساؤ پاؤلو کے قریب جانا چاہتے تھے جہاں ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب منعقد ہونی ہے۔

وہ ’یہاں کپ نہیں ہوگا‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں کورنتھیئنز ایرینا جانے والے راستے پر ایک میٹرو سٹیشن کے قریب ہوئیں۔

برازیلی ذرائع ابلاغ پر نشر کی جانے والی فوٹیج میں ہنگاموں سے نمٹنے کی ماہر پولیس کو 50 کے قریب مظاہرین کو آنسو گیس اور ربر کے ڈنڈوں کی مدد سے منشتر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی پیش کار ایلس ٹامسیڈ نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا ہے کہ احتجاج کی رپورٹنگ کرنےادارے کی ساؤ پاؤلو میں پروڈیوسر باربرا ارونتیدس کا بازو ممکنہ طور پر ٹوٹ گیا ہے۔

برازیل کی صدر جیلما روسیف پہلے ہی کہہ چکی ہیں کہ ورلڈ کپ کے موقعے پر پرتشدد مظاہروں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

گذشتہ برس لاکھوں افراد نے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات اور بدعنوانی کے خلاف اور عوامی سہولیات میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے۔

رواں برس بھی برازیل کے مختلف شہروں میں ورلڈ کپ کے خلاف اسی قسم کے مظاہرے ہوئے ہیں جن میں سے چند نے پرتشدد روپ دھار لیا تھا۔

اسی بارے میں