عراق: شدت پسندوں کے کنٹرول کا دائرہ وسیع تر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس آئی ایس القاعدہ سے علیحدہ ہونے کے بعد ایک بڑا جہادی گروپ بن کر سامنے آیا ہے جو شام اور عراق میں سرکاری فوجوں کے خلاف برسرپیکار ہے

عراق میں شدت پسندوں نے دو نئے قصبوں پر قبضے کے ساتھ اپنے کنٹرول کا دائرہ وسیع تر کر لیا ہے اور اب ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ دارالحکومت بغداد کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

سنی شدت پسندوں نے دیالہ صوبے میں سعدیہ اور جلولا کے قصبوں پر قبضہ کیا ہے اور مضافاتی علاقوں میں سکیورٹی اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بدھ کو عراقی سکیورٹی حکام نے بتایا تھا کہ کہ اسلامی شدت پسندوں نے منگل کو موصل کے بعد سابق صدر صدام حسین کے آبائی شہر تکریت پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کی حکومت عراق میں فوجی ایکشن سمیت ’تمام آپشنز‘ پر غور کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں عراقی حکومت کی مدد کی جائے گی۔

براک اوباما نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جہادی عناصر عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں۔

امریکی صدر کا یہ بیان عراق میں دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام (آئی ایس آئی ایس) نامی تنظیم کی جانب سے موصل اور تکریت پر قبضے کے بعد سامنے آیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption براک اوباما نے کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جہادی عناصر عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں

براک اوباما نے وائٹ ہاؤس میں آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ عراق میں مختصر مدت کے لیے فوری طور پر فوجی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق عراقی افواج نے جعمرات کو موصل اور تکریت میں فضائی حملے کر کے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’میں عراق میں کسی بھی طرح کی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کرتا کیونکہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جہادی عراق میں قدم جمانے میں کامیاب نہ ہوں۔‘

اس سے پہلے امریکہ میں عراق کے سیفر لقمان فیلی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حالیہ برسوں میں عراق کو ’انتہائی سنگین‘ صورتِ حال کا سامنا ہے۔

ادھر عراقی پارلیمان میں وزیرِ اعظم نوری المالکی کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بارے میں ہونے والی رائے شماری کو ممبران کی مطلوبہ تعداد کم ہونے کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔

عراقی پارلیمان کے 325 میں سے صرف 128 ارکان رائے شماری کے وقت پارلیمان میں موجود تھے۔

دولتِ اسلامیہ فی عراق والشام نامی تنظیم کی قیادت میں عسکریت پسندوں کا ارادہ ہے کہ جنوبی علاقوں کی جانب مزید پیش قدمی کریں گے جہاں دارالحکومت بغداد اور شیعہ اکثریتی علاقے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق میں شدت پسندوں کی جانب سے موصل اور تکریت پر قبضے کی شدید مذمت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو متحد ہو کر عراق کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرنا چاہیے۔

عراقی افوج کی بمباری نے آئی ایس آئی ایس کی پیش قدمی کو سامرا میں روک دیا تھا۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صوبہ نینوا پر دولتِ اسلامیہ کا کئی ماہ سے غیر رسمی کنٹرول تھا جس میں یہ تنظیم مقامی اہلکاروں سے بھتہ وصول کیا کرتی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کو شام کے بڑے حصے اور مغربی و وسطی عراق پر کنٹرول حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں