عراق بحران: تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن ممالک میں سے تیل پیدا کرنے والے دوسرا بڑا ملک ہے

عراق میں اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کی جانب سے موصل سمیت مختلف علاقوں پر قبضے کے نتیجے میں جمعے کو تیل کی عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

ہفتے کے اختتام پر تیل کی قیمتوں میں چار ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا اور تیل کی رسد کے تسلسل کے بارے میں جاری کی گئی تسلیوں نے بے چین منڈیوں کو پر سکون کرنے میں کسی حد تک کردار ادا کیا۔

’برینٹ کروڈ‘ کی قیمت 112.32 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہوئی جبکہ ’یو ایس کروڈ‘ کی قیمت 106.55 ڈالر فی بیرل پر مستحکم ہوئیں جو کہ ستمبر کے بعد سب سے اونچی سطح سے نیچے آئیں۔

دولت اسلامیہ فی عراق و الشام (آئی ایس آئی ایس) کے شدت پسند موصل اور تکریت پر قبضہ کر چکے ہیں اور دارالحکومت بغداد کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ عراق کی مدد کے لیے ’تمام امکانات‘ پر غور کر رہا ہے۔

عراق تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے رکن ممالک میں سے تیل پیدا کرنے والے دوسرا بڑا ملک ہے۔

عالمی توانائی کی تنظیم ’آئی ای اے‘ کے مطابق عراق عالمی تیل کی پیدوارا کا چار فیصد پیدا کرتا ہے۔

آئی ای اے نے جمعے کو کہا کہ ’عراق میں حالیہ واقعات کے تناظر میں شاید اب تک تو نہیں مگر حالات اگر مزید خراب ہوتے ہیں تو عراق سے تیل کی فراہمی کو فوری خطرے سے دوچار کر سکتے ہیں۔‘

اوپیک نے جمعے کو تسلی دیتے ہوئے بیان دیا تھا کہ اضافی پیداوار اضافی طلب کو پورا کرنے کے بہت کافی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ عالمی سطح پر تیل پیدا کرنے والا بڑا خطہ ہے اور خدشہ ہے کہ اگر یہ تنازعہ بڑھتا ہے تو اس سے عالمی تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں