امریکہ کا طیارہ بردار ’جارج ایچ ڈبلیو بُش‘خلیج بھجوانے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طیارہ بردار جہاز USS George HW Bush اس وقت شمالی بحیرہ عرب میں موجود ہے جہاں سے اسے خلیج فارس بھجوایا جا رہا ہے

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اپنا ایک جنگی جہاز خلیج بھجوا رہا ہے جسے ضروت پڑنے پر کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں صدر اوباما کو فوجی کارروائی کے لیے آپشن دستیاب ہو گا اگر عراق میں صورتحال مزید بگڑتی ہے۔

امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بُش‘کو حکم دیا ہے کہ وہ شمالی بحیرۂ عرب سے خیلج فارس پہنچ جائے جس پر درجنوں لڑاکا طیارے موجود ہیں۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران انتہا پسند سُنیوں کے خلاف لڑائی میں عراقی حکومت کی مدد کے لیے تیار ہے۔

تاہم انھوں نے عراقی افواج کی مدد کے لیے ایرانی فوجی بھیجنے کی تردید کی۔

اس طیارہ بردار جہاز کے ساتھ گائیڈڈ میزائل کروزر ’یو ایس ایس فلپائن سی‘ اور گائیڈڈ میزائیل ڈیسٹروئیر ’یو ایس ایس ٹرکسٹن‘ بھی سینیچر کی شام کو خلیج پہنچ رہے ہیں۔

امریکی وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان جہازوں کی علاقے میں موجودگی سے صدر اوباما کو مختلف اقدامات کے لیے آپشن دستیاب ہوں گے اگر عراق میں امریکی شہریوں اور مفادات کی حفاظت کی نوبت آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption ایرانی صدر نے آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ میں اپنے روایتی حریف امریکہ سے تعاون کے امکان کی بھی مسترد نہیں کیا

دولت اسلامیہ عراق و شام (آئی ایس آئی ایس) کے شدت پسند موصل اور تکریت پر قبضہ کر چکے ہیں اور دارالحکومت بغداد کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔

آئی ایس آئی ایس کس کا نام ہے؟

سنّی اقلیت پر انحصار کرنے والے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں برسرِ اقتدار آنے والی شیعہ قیادت سے ایران کے قریبی رشتے ہیں۔

آئی ایس آئی ایس عراق پر امریکی قیادت میں کیے جانے والے قبضے کے دوران وجود میں آئی اور اُس کے جنگجو عراق ہی میں نہیں شام میں بھی صدر بشار الاسد کے خلاف جنگ میں ملوث گروہوں کی مدد کرتے رہے ہیں اور اب شام میں ایک الگ گروپ کے طور پر بھی لڑ رہے ہیں۔

ایرانی صدر نے اپنے اقتدار کا پہلا سال کے مکمل ہونے پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’عراقی حکومت اگر ہم سے مدد مانگے گی تو ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف عراقی قوم کی ہر ممکن مدد کریں گے۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ تاحال تو عراقی حکومت نے ایران سے کسی طرح کی کوئی مدد طلب نہیں کی۔

ایرانی صدر نے آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ میں اپنے روایتی حریف امریکہ سے تعاون کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا۔ خود ان کے اپنے الفاظ میں ’اگر امریکہ عراق اور دوسری جگہوں پر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی شروع کرتا ہے تو ہم بھی سوچ سکتے ہیں۔‘

ذرائع کے حوالے سے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل اور چینل سی این این یہ خبریں دے چکے ہیں کہ ایران مدد کے لیے اپنے پاسدارانِ انقلاب کو پہلے ہی عراق بھیج چکا ہے لیکن ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ عراق میں شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے کارروائی کرنے کا فیصلہ کرنے میں انھیں چند دن لگیں گے تاہم امریکہ عراق میں اپنی افواج نہیں بھیجے گا۔

امریکی صدر نے عراقی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ فرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں کریں۔

براک اوباما نے میڈیا کو بتایا کہ آئی ایس آئی ایس نہ صرف عراق اور اس کے عوام کے لیے خطرہ ہے بلکہ وہ امریکی مفادات کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ عراق کو شدت پسندوں کےگروہوں کا زور توڑنے کے لیے اضافی مدد کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ گذشتہ جمعے کو عراق کے سب سے سینیئر شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کی جانب سے سنّی شدت پسندوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے شہریوں سے ہتھیار اٹھانے اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دینے کی اپیل کی جا چکی ہے۔

شیعہ رہنما کی جانب سے یہ پیغام نمازِ جمعہ کے خطبے میں دیا گیا۔

پیغام میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں پر تسلط کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں اور ان کی جنوب کی جانب پیش قدمی خطرہ ہے۔

’ایسے شہری جو ہتھیار حاصل کر سکتے ہیں اور دہشت گردوں سے لڑائی اور اپنے ملک، لوگوں اور مقدس مقامات کا دفاع کر سکتے ہیں، وہ رضاکارانہ طور پر سکیورٹی فورسز کا اس مقدس فریضے میں ساتھ دیں۔‘

بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گالپن کے مطابق اطلاعات ہیں کہ ہزاروں شیعہ افراد مسلح گروہوں میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں اور امکان ہے کہ بغداد کے دفاع میں اہم کردار ادا کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں