عراقی فوج نے شدت پسندوں کی پیش قدمی ’روک دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنی عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیابی۔

اطلاعات کے مطابق عراقی فوج شیعہ اور کرد جنگجؤوں کی حمایت سے شمالی بغداد میں سنی عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔

حکومت نے اکثر علاقوں کو باغیوں کے ہاتھوں سے واپس اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے لیکن تکریت اور موصل جیسے اہم شہر اب بھی باغیوں کے قبضے میں ہیں۔

سرکاری سکیورٹی فورسز کے مطابق ایک شہر اسحاق میں 12 پولیس اہلکاروں کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں۔

دریں اثنا عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کے ممکنہ جواب کے لیے ایک امریکی طیارہ خلیج میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ جب تک عراقی رہنما اپنےفرقہ وارانہ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششیں نہیں کریں گے تو شدت پسند کارروائیوں سے نمٹنے کے دی جانے والی امریکی امداد کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

عراق سے بی بی سی کے نامہ نگار جم مویرکہتے ہیں کہ سامرہ شہر میں سرکاری فوج ایک ممکنہ جوابی کارروائی میں مصروف ہے جس کا مقصد باغیوں کو صدام حسین کے آبائی شہر سے بھگانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اطلاعات کے مطابق ہزاروں افراد شعیہ ملیشیا میں شامل ہو چکے ہیں۔

اتوار کی صبح کو تین عراقی فوجی اور تین شیعہ مسلح لوگ بعقوبہ شہر کے قریب ایک فوجی بھرتی مرکز پر مارٹر حملے میں مارے گئے ہیں۔ اس سے پہلے سنیچر کی رات کو جاولا کے شہر میں ایک جھڑپ کے دوران ایک سرکاری ہیلی کاپٹر نے غلطی سے سات کرد جنگجوؤں کو مار دیا۔

واضح رہے کہ عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد جنگجو آئی ایس آئی ایس کے نام سے لڑ رہی ہے جو کہ القاعدہ سے منسلک ہے۔

اس سے پہلے عراق کے سب سے سینیئر شیعہ رہنما آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کے ترجمان نے کہا تھا کہ سنی شدت پسندوں کی پیش قدمی کے بعد شہری ہتھیار اٹھا لیں اور اطلاعات کے مطابق ان کے اس بیا کے بعد ہزاروں افراد شعیہ ملیشیا میں شامل ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے طیارہ بردار جہاز ’یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بُش‘ جس پر درجنوں لڑاکا طیارے موجود ہیں، کو حکم دیا ہے کہ وہ شمالی بحیرۂ عرب سے خیلج فارس پہنچ جائے ۔امریکہ نے کہا ہے کہ ضروت پڑنے پر یہ جہاز کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ اس بحری جہاز پر دو مختلف گائیڈڈ میزائل ’یو ایس ایس فلپائن سی‘ اور ’یو ایس ایس ٹرکسٹن‘ بھی موجود ہیں۔

تاہم، صدر اوباما نے اصرار کیا ہے کہ کوئی امریکی فوجی عراق میں زمینی فوج کی حیثیت سے تعینات نہیں کیا جائے گا۔

نامہ نگاروں کے مطابق امریکہ کو عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور ان کی شیعہ اکثریتی حکومت سے مایوسی ہو رہی ہے کہ وہ سنیوں اور کردوں کے خدشات کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے سنیچر کے روز کہا کہ انھوں نے بغداد کو براہ راست امداد کی پیشکش کی تھی، تاہم ایرانی صدر نے اس بات کی تردید کی کہ عراق میں لڑنے کے لئے ایرانی فوج بھیجی جا رہی ہے۔

تاہم بی بی سی فارسی کے علاقائی تجزیہ کار کے مطابق ایران کی ریولوشن گارڈ کے 130 سے زیادہ اہلکار تربیت اور مشورہ فراہم کرنے کے لئے عراق پہنچ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ایرانی جنرل کی بھی بغداد میں موجود ہونے کی اطلاع ہے۔

اسی بارے میں