اسرائیلی نوجوان حماس نے اغوا کیے: اسرائیل

Image caption لاپتہ نوجوانوں کے لیے اسرائیل میں دعائیں کی گئیں

جمعرات کے روز غرب اردن میں واقع ایک اسرائیلی بستی کے قریب سے تین لاپتہ ہونے والے اسرائیلی نوجوانوں کے بارے میں حماس کا کہنا ہے کہ اس میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ان نوجوانوں کو حماس نے اغوا کر رکھا ہے۔

اپریل میں فلسطینی متحدہ حکومت کے قیام کے اعلان کے بعد یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات میں پھرتناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ’ہمارے نوجوانوں کو اغوا کرنے والے حماس کے لوگ ہیں۔‘ انھوں نے مذید کہا کہ محمود عباس نےحال ہی ایک متحدہ حکومت کا اعلان کیا ہے جسے حماس کی طرف سے حمایت بھی حاصل ہے۔ اس کی وجہ سے اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ امن مذاکرات بھی معطل کر دیےتھے۔

حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری کا کہنا ہے کہ ’نیتن یاہو کے بیانات احمقانمہ ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ حماس رہنماؤں، ارکان اسمبلی اور وزرا کی وسیع پیمانے پرگرفتاریوں کا مقصد حماس کو کمزور کرنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیل اغوا کاروں کے خلاف کارروائی کرے گا: نیتن یاہو

اسرائیلی فوج کے مطابق لاپتہ نوجوانوں کی تلاش کے سلسلے میں 80 فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

اسرائیل کے مطابق لاپتہ لڑکوں کی تلاش میں ایک بھرپور آپریشن جاری ہے۔ دو 16 سالہ اور ایک 19 سالہ نوجوان آخری بار یروشلم اور ہیبرون کے درمیان واقع یہودی بستیوں کے ایک بلاک میں دیکھے گئے تھے۔

دوسری جانب فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ تلاش میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو ماضی میں بھی فلسطینی حکام کو اس قسم کی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھرا چکے ہیں، تاہم اس کے جواب میں فلسطینی حکام نے اس بات پر زور دیا کہ لاپتہ ہونے والے لوگ ایک ایسے علاقے میں گم ہوئے جو مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے ایک ترجمان نے ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اس ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج کے دو مختلف حملوں ایک لڑکی زخمی جبکہ ایک سات سالہ لڑکا مارا گیا ہے۔

اسی بارے میں