عراقی فوجیوں کا ’داعش جنگجوؤں کے ہاتھوں قتلِ عام‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان حوفناک تصاویر میں فوجیوں کے قتل سے پہلے اور بعد کی مناظر دکھائے گئے ہیں

عراق میں موصل اور تکریت پر قبضہ کرنے والی جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق والشام نے انٹرنیٹ پر تصاویر جاری کی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے جنگجو عراقی فوجیوں کا قتلِ عام کر رہے ہیں۔

ان تصاویر میں نقاب پوش جنگجو کئی عراقی فوجیوں کو ٹرکوں پر سوار کر کے دکھایا گیا ہے جس کے بعد انہیں کھائیوں میں لیٹا ہوا دکھایا گیا ہے جن میں ہلاک کرنے سے قبل اور بعد کی تصاویر شامل ہیں۔

’آئی ایس آئی ایس یا داعش‘ کس کا نام ہے؟

عراقی فوج کے ترجمان لیفٹنٹ جنرل قاسم الموسوی نے تصدیق کی ہے کہ یہ تصاویر اصلی ہیں اور صلاح الدین صوبے میں لی گئی تھیں۔

تاہم ان تصاویر کی اصلیت آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی ہے۔

شمالی عراق میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جِم موئر کا کہنا ہے کہ کہ اگر یہ تصاویر اصلی ہیں تو یہ 2003 میں عراق پر امریکی قبضے کے بعد سے سب سے سفاکانہ قتلِ عام ہو گا۔

گذشتہ ہفتے کے دوران جنگجوؤں نے موصل اور تکریت سمیت کئی دوسرے قصبوں پر قبضہ کیا تھا مگر عراقی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے کئی قصبے جنگجوؤں کے قبضے سے آزاد کروا لیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان فوجیوں کو ٹرکوں میں لاد کر کھائیوں می لیجا کر گولیاں مارتے ہوئے دکھایا گیا ہے

بظاہر آئی ایس آئی ایس کی جانب سے پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجیوں کے ساتھ کیسا بہیمانہ سلوک کیا گیا جب انہیں تکریت کے ایک فوجی اڈے پر قبضے کے بعد گرفتار کیا گیا۔

تصاویر میں بڑی تعداد میں نوجوان فوجیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جنہیں ٹرکوں پر سوار کر کے لیجایا جا رہا ہے۔

ان تصاویر کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ انہیں ان کی موت کی جانب لیجایا جا رہا ہے۔

بعض تصاویر میں جنگجوؤں کو اپنے قیدیوں پر فائرنگ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

باغیوں کی تحریک میں موجود ذرائع جن کا تعلق آئی ایس آئی ایس سے نہیں ہے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اندازاً ایک ہزار کے قریب اہلکاروں کو قتل کیا گیا ہے جنہیں سبايكر کے فوجی اڈے سے پکڑا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومتی افواج کا اجتماع بغداد کے شمال میں سامراء میں جاری ہے جو تکریت پر حملے کی تیاری میں جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے انہیں باقاعدہ فوجی دستوں میں تقسیم کیا جنہیں آزاد کر دیا گیا جبکہ شیعہ ملیشیا کے رضا کاروں اور حکومت کے ایلیٹ گولڈن برگیڈ کو مارنے کا حکم دیا گیا۔

عراقی فوج کے ترجمان جنرل قاسم عطا نے کہا کہ فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کئی علاقوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں جن میں 279 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تاہم اس تعداد کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

موصل کے مغرب میں واقع تل عفر نامی قصبے میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں جبکہ حکومتی افواج کا اجتماع بغداد کے شمال میں سامراء میں جاری ہے جو تکریت پر حملے کی تیاری میں جاری ہے۔

اسی بارے میں