انگلینڈ: جبری شادی کرانے پر سات سال قید

فائل فوٹو
Image caption اس قانون کے تحت صرف انگلینڈ اور ویلز ہی نہیں بلکہ بیرون ملک برطانوی شہریوں کو بھی تحفظ فراہم ہو گا

آج کے بعد سے برطانیہ میں اُن والدین کو سات سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے جو اپنے بچوں کی جبری شادی کرنے کی کوشش کریں گے۔

انگلینڈ اور ویلز میں نافذ ہونے والے نئے قانون کے تحت جبری شادی کرانا قانونی طور پر جرم تصور ہوگا۔

جبری شادی کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو واضح پیغام ملے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں ہر سال تقریباً آٹھ ہزار نوجوانوں اور لڑکیوں کی زبردستي شادی کر دی جاتی ہے۔ لیکن اب اس نئے قانون کے تحت انگلینڈ اور ویلز میں جبری شادی کروانا جرم تصور کیا جائے گا۔

اس سے قبل انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں عدالتیں اس معاملے میں دیوانی احکامات جاری کرنے کی مجاز تھیں تاکہ جبری شادی کے شکار لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

وزرا کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے ایسے معاملات کے شکار بچوں کا حوصلہ ملے گا اور وہ جبری شادیوں کے خلاف آگے آئیں گے۔

یہ قانون ایک واضح پیغام ہے

یہ قانون صرف انگلینڈ اور ویلز ہی نہیں بلکہ بیرون ملک برطانوی شہریوں کو بھی تحفظ فراہم کرے گا۔

برطانیہ میں آباد جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے منسلک لوگوں میں ایسے کئی معاملے سامنے آتے رہے ہیں۔

برطانیہ میں رہنے والی ثميم علی خواتین کے حق کے لیے کام کرتی ہیں۔ وہ خود کم عمری میں جبری شادی کا شکار ہو چکی ہیں۔

اُن دنوں کو یاد کرتے ہوئے ثميم کہتی ہیں کہ 12 سال کی عمر میں انھیں اسکول سے نکال لیا گیا اور برطانیہ سے پاکستان بھیج دیا گیا۔

13 سال کی عمر میں ان کی جبری شادی کر دی گئی اور انھیں ایک نامعلوم شخص سے زبردستی جسمانی تعلقات بنانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ 14 سال کی عمر میں انھوں نے ایک بچے کو جنم دیا۔

’نیشنل سوسائٹی فار پریوینشن آف كرویلٹي ٹو چلڈرن‘ نامی تنظیم برطانیہ میں بچوں کے لیے کام کرتی ہے۔ ادارے کے مطابق ان کی ہیلپ لائن نمبر پر ایسے کئی بچے کال کرتے ہیں جنھیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی زبردستی شادی کر دی جائے گی اور ان میں ایک چوتھائی کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔

ایشیائی کمیونٹی میں رائے منقسم

ادارے نے بتایا ہے کہ ایسی فون کالز کی تعداد گذشتہ تین سالوں میں تین گنا ہو گئی ہے۔

ایک برطانوی لڑکی نے آپ بیتی کچھ یوں سنائی: ’میری زبردستی شادی کر دی گئی ہے۔ میں اس سب سے بھاگنا چاہتی ہوں۔ میں اپنے خاندان سے نفرت کرتی ہوں۔ کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ خود کشی کر لوں۔ مجھے اس سب سے چھٹکارا حاصل کرنے کا یہی راستہ نظر آتا ہے۔‘

برطانیہ میں آباد جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں نئے قانون کے بارے میں رائے منقسم ہے۔ اسلامی عالم شیخ امیر جمیل قانون کی مدد سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کو بہتر ذریعہ سمجھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ظاہر ہے سخت قوانین ضروری ہیں، لیکن مسئلے کا حل لوگوں کو تعلیم یافتہ بنانے اور بیداری پیدا کر کے ہی نکل سکتا ہے۔ جب ذہنیت بدلے گی تو حالات خود بدل جائیں گے۔‘

کیا بچیاں کھل کر سامنے آ پائیں گی؟

ویسے سکاٹ لینڈ میں جبری شادی روکنے کے لیے تین سال پہلے ضابطہ بنایا گیا تھا۔ اس کے تحت اگر کوئی شکایت کرتا ہے تو اسے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

خواتین سے متعلق مسائل پر کام کرنے والی رجنی پدھار ایسے اقدامات کی حمایت کرتی ہیں لیکن ان کے کچھ خدشات بھی ہیں۔ رجنی کہتی ہیں کہ قوانین زیادہ سخت ہونے سے بہت سی متاثرہ خواتین آگے آنے سے ڈریں گي کیونکہ انھیں خدشہ ہو گا کہ ان کے خاندان والے ناراض ہو سکتے ہیں۔

بی بی سی کی معلومات کے مطابق سکاٹ لینڈ میں جب سے جبری شادی کے خلاف قانون نافذ ہوا ہے، اس کے بعد سے صرف دس کیس سامنے آئے ہیں۔

ماہر اسے اہم قدم تو تسلیم کر رہے ہیں لیکن بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ خاندان کے خوف کے سائے میں آخر کتنی بچیاں کھل کر سامنے آئیں گی؟

اسی بارے میں