کینیا: ’اسلام پسندوں‘ کے حملے میں 47 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 2011 کے بعد کینیا میں جنگجوؤں کے کئی حملے دیکھے گئے ہیں

افریقی ملک کینیا کے ساحلی شہر مپیکیٹونی کے ہوٹلوں اور ایک پولیس سٹیشن پر ’اسلام پسندوں‘ کے حملے میں کم از کم 47 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔

مپیکیٹونی میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولہ باری کئی گھنٹے تک جاری رہی اور عمارتوں سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آئے۔

یہ شہر لامو جزیرے کے قریب ہے جو سیاحت کے لیے معروف مقامات میں شامل ہے۔

سنہ 2011 کے بعد کینیا میں جنگجوؤں کے کئی حملے دیکھے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسی سال کینیا نے پڑوسی ملک صومالیہ میں الشباب کے جنگجوؤں کے حلاف فوج بھیجی تھی۔

دارالحکومت نیروبی میں بی بی سی کے نمائندے یوسف دایو کا کہنا ہے کہ حملہ اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام ساڑے آٹھ بجے شروع ہوا۔ اس وقت مقامی باشندے ٹی وی پر فٹبال عالمی کپ کا میچ دیکھ رہے تھے۔

مقامی باشندوں نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں نے ایک وین کو اغوا کر لیا اور شہر کے مختلف مقامات پر حملوں میں اس کا استعمال کیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بندوق برداروں نے اپنے چہروں پر نقاب ڈال رکھی تھی اور انھوں نے ایک پولیس سٹیشن میں دھماکہ خیز مواد پھینکا اور وہاں سے بہت سے ہتھیار اٹھا کر لے گئے۔

مقامی پولیس سربراہ ہماتون موالیکو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ بندوق بردار افراد نے کئی ہوٹلوں میں آگ لگا دی اور پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔

انھوں نے کہا: ’ہمارے خیال میں حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو چکے ہیں تاہم ہمارے اہلکار ان کے تعاقب میں ہیں۔‘

ابھی تک واضح نہیں کہ یہ حملہ آور کون تھے لیکن فوج کے ترجمان میجر ایمینوئل چرچر کا کہنا ہے: ’زیادہ امکان ہے کہ حملہ کرنے والے الشباب کے ارکان تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ تلاش اور نگرانی کرنے والے طیارے اس علاقے میں جاری کارروائی میں تعاون کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔

مومباسا کے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ مقامی باشندوں نے شہر کی سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی دیکھی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مپیکیٹونی میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت ہے۔

اسی بارے میں