برگڈال طالبان کی قید سے رہا لیکن تحقیقات کی زد میں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ آخر وہ کیسے حالات تھے جن میں سارجنٹ برگڈال سنہ 2009 میں طالبان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔

امریکہ کی فوج نے طالبان کی قید سے پانچ سال بعد رہا ہونے والے امریکی فوجی سارجنٹ بو برگڈال کی افغانستان میں ایک فوجی چوکی سے غائب ہونے کے واقعے کی تحقیقات شروع کی ہیں۔

فوج نے میجر جنرل کینیت ڈاھل کو جو افغانستان میں فوجی خدمات سرانجام کر چکے ہیں، ان تحقیقات کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

سارجنٹ بو برگڈال پانچ سال تک افغانستان میں طالبان کی قید میں رہنے کے بعد جمعے کو امریکہ واپس پہچنے۔ طالبان سے رہائی پانے کے بعد جلد ہی بعض تبصرہ نگاروں اور فوجیوں نے انھیں بگھوڑا قرار دیا اور انھیں سزا دینے کا کہا۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے پہلے یہ نتیجہ اخز کیا تھا کہ سارجنٹ بو برگڈال افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں اجازت لیے بغیر اپنے چوکی چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن حکام کو ابھی تک اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہ فوج سے بگوڑا ہو رہے تھے یا نہیں۔

28 سالہ برگڈال کو جرمنی میں امریکی فوج کے میڈیکل سنٹر سے جہاز کے ذریعے بروک آرمی میڈیکل سینٹر ٹیکسس لے جایا گیا جہاں وہ دوبارہ معاشرے کا حصہ بننے کے پروگرام کا آخری حصہ پورا کریں گے۔

سارجنٹ برگڈال کو 31 مئی کو گوانتانامو بے میں قید پانچ طالبان کمانڈروں کی رہائی کے بدلے میں چھوڑا گیا تھا۔ امریکہ میں اس تبادلے پر رپبلکن پارٹی نے شدید تنقید کی ہے۔

سارجنٹ برگڈال کو تحقیقات کے سلسلے میں اس وقت تک انٹرویو نہیں کیا جائے سکے گا جب تک ان کو ’معاشرے کا دوبارہ حصہ بنانے والے پرواگم‘ کی ٹیم اس کی اجازت نہیں دیتی۔

محکمۂ دفاع کے مطابق تحقیقات کو مکمل کرنے کے لیے وقت کا کوئی تعیئن نہیں کیا گیا۔

جمعے کو میجر جنرل جوزف ڈی سیلوا نے کہا کہ سارجنٹ برگڈال جب ٹیکسس پہنچے تو ’اچھے دکھائی دیے‘ ، وہ یونیفارم میں تھے اور انھوں نے سلوٹ کیا۔

اس وقت انھوں نے کہا تھا کہ سارجنٹ برگڈال اپنی مرضی سے اپنے خاندان سے نہیں ملے ہیں۔

خیال رہے کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ آخر وہ کیسے حالات تھے جن میں سارجنٹ برگڈال سنہ 2009 میں طالبان کے ہتھے چڑھ گئے تھے۔

اسی بارے میں