’ووٹرز کی انگلیاں کاٹنے والے شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption افغانستان میں بھی ووٹروں کے لیے اپنی انگلی پر سیاہی لگوانا ضروری ہے

افغانستان میں سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان دو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے جن پر الزام تھا کہ انھوں نے سنیچر کے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے ضعیف ووٹروں کی انگلیاں کاٹ دی تھیں۔

مبینہ طور پر طالبان کے ہاتھوں زخمی کیے جانے والے افراد کو طالبان نے صوبہ ہرات میں اس وقت پکڑ کر زخمی کر دیا تھا جب یہ لوگ انتخابات میں اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں ووٹروں کے لیے اپنی انگلی پر سیاہی لگوانا ضروری ہے۔

اگرچہ طالبان ملک میں صدارتی انتخابات کے خلاف رہے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ضعیف ووٹروں کی انگلیاں کاٹے جانے کے واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہرات میں پولیس کا کہنا ہے کہ باغیوں کے کمانڈر ملا شیر آغا اور اس کے ایک ساتھ کو اتوار کے روز فوج اور پولیس کی ایک مشترکہ کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ ووٹروں کی انگلیاں کاٹنے کے واقعے میں ملوث ایک تیسرا شدت پسند کارروائی کے دوران زخمی ہو گیا تھا اور اب وہ پولیس کی حراست میں ہے۔

افغانستان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کیوبس نے عمر رسیدہ ووٹروں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اپنے ووٹوں کے ذریعے یہ افراد پہلے ہی ان لوگوں کو شکست دے چکے ہیں جو خوف اور تشدد پھیلاتے ہیں۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سنیچر کو طالبان کے مختلف حملوں میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے لیکن اس دن انتخابی عمل عمومی طور پر پرامن رہا۔

دوسری جانب صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بہت دھاندلی کی گئی۔

انھوں نےانتخابی کمیشن کے غیر جانبدار ہونے کے بارے میں سوال اٹھائے اور عبداللہ عبداللہ کا کہنا تھا الیکشن کمیشن کا یہ دعویٰ کہ دوسرے مرحلے میں 70 لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے، حقیقت سے بہت دور ہے۔